اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

باب دوستی پر بڑا حملہ, پاکستان کا پرچم نذر آتش ۔۔بارڈر بند صورتحال کشیدہ ہو گئی

datetime 20  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے افغان مظاہرین کی جانب سے چمن میں ‘باب دوستی’ پر حملے اور پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد پاک۔افغان بارڈر کو بند کردیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نیٹو سپلائی اور ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اْس وقت پیش آیا جب ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے متنازع بیان کے خلاف بلوچستان میں عوام نے ایک احتجاجی ریلی نکالی اور چمن بارڈر تک جاپہنچے۔دوسری جانب افغان شہریوں نے بھی ملک کی 97 سالہ یوم ا?زادی کے موقع پر ایک ریلی نکالی اور سرحد کے قریب واقع قصبے اسپین بولدک سے گزرتے ہوئے چمن بارڈر پر باب دوستی کے سامنے جمع ہوگئے۔تاہم وہاں پاکستانی شہریوں کو دیکھ کر یہ ریلی پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی اور ریلی کے شرکاء نے چمن میں ‘باب دوستی’ پر پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے پتھر برسائے، جس سے باب دوستی کے شیشے ٹوٹ گئے۔افغان مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستان مخالف نعرے درج تھے۔دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان شہریوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے اجتناب کیا۔
اسی دوران افغان مظاہرین نے پاکستانی مظاہرین سے پرچم چھینا اور باب دوستی پر کھڑے ہوکر پرچم کو نذر آتش کردیا، افغان مظاہرین نے گیٹ توڑ کو اندر آنے کی کوشش بھی کی، تاہم افغان ریلی کی وجہ سے باب دوستی پہلے ہی سے بند تھا۔اس واقعے کے حوالے سے ایک سینئر سیکیورٹی عہدے دار کا کہنا تھا کہ باب دوستی کے مقام پر پرچم نذر آتش کیے جانے کے بعد پاک۔افغان بارڈر کو بند کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاک۔افغان بارڈر کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے اور باب دوستی پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں، ہم اس وقت تک بارڈر کو نہیں کھولیں گے جب تک اعلیٰ افسران کی جانب سے ہمیں کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوتا‘۔چمن میں موجود ایک تاجر کلام الدین کا کہنا تھا کہ ’پاک۔افغان بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے کس بھی قسم کی گاڑیاں چمن میں داخل نہیں ہوسکتیں اور یہی حال پاکستان کا ہے، پاکستان سے بھی کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمیاں نہیں ہوسکتیں‘۔واضح رہے کہ روزانہ ہزار سے 15 ہزار مال گاڑیاں پاک۔افغان بارڈر سے چمن اور ویش منڈی میں داخل ہوتی ہیں۔چمن کے ایک رہائشی نعمت اللہ نے ڈان کو فون پر بتایا کہ ’باب دوستی بند ہونے کی وجہ سے جمعے سے کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں ملیں‘۔ذرائع کے مطابق باب دوستی پر پاکستانی پرچم نذر ا?تش ہونے کے واقعے کے بعد بارڈر پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور کسی بھی قسم کے ناخوشگوار حالات سے نمنٹے کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں (ایف سی) کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…