جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ریلوے کے مسافروں کو لائف انشورنس دیدی گئی ہے ،سعد رفیق

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ریلوے کے مسافروں کو لائف انشورنس دیدی گئی ہے،ریلوے کے اندر بڑی تبدیلی آئی ہے،محکمے سے سستی، کاہلی اور لوٹ مار کے کلچر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے،محکمہ میں یہ بہتری اور تبدیلی ریلوے کی انتظامیہ اور محنت کشوں کے تعاون سے آئی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس مالی سال میں حکومت نے محکمہ ریلوے کو 38 بلین کا ہدف دیا تھا اور ابھی 6 ماہ کا عرصہ ہوا ہے تو ہم 35 بلین سے آگے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال 2014ءمیں بھی ہم نے حکومت کو 32 ارب روپے کما کر دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اڑھائی سال کے عرصے میں ریلوے کے مسافروں کی تعداد میں ایک کروڑ 20 لاکھ مسافروں کا اضافہ ہوا ہے، مال گاڑیاں جو پہلے ایک ماہ میں صرف 12 سے 14 چلتی تھیں آج 300 سے زیادہ چل رہی ہیں، محکمے کی اراضی کو بھی کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے اور (ای) ٹکٹنگ کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اپنے ملازمین کے 5 ارب سے زائد کے واجبات بھی ادا کر چکے ہیںجبکہ پنشنرز کی قطاروں کے نظام کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ہم 201 ریلوے اسٹیشنز کو بھی اپ گریڈ کر رہے ہیں۔ ریلوے کے کرایوں میں بھی کمی کی ہے جس سے ہمارے مسافروں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس، فرید ایکسپریس اور بولان میل کو نجی سیکٹر کے حوالے کرنے جا رہے ہیں جو نقصان میں جا رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو نجکاری کی طرف لیکر نہیں جائیں گے کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں لیکن نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی جاری رکھیں گے، ہم بزنس ایکسپریس کو اگلے ماہ سے ایک نئے نام اور نئے کمپوزیشن سے چلائیں گے جس سے مسافروں کو بھی زیادہ سہولت ملے گی اور محکمہ بھی زیادہ کمائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ اڑھائی سال کے عرصے میں ہم نے محکمے کی 7680 کنال زمین واگزار کرا لی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…