جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

رینجرز کے اختیارات محدود،طبل جنگ بج گیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک) رینجرز کے اختیارات محدود،طبل جنگ بج گیا،ایم کیو ایم کا حیرت انگیزردعمل،تاجروں کا بڑا اعلان،آج ہوشیار رہیں!،کراچی تاجر اتحاد نے سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات محدود کرنے پر صوبائی اسمبلی کے گھیراو¿ کا اعلان کرتے ہوئے اختیارات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق کراچی تاجر اتحاد کے چیرمین عتیق میر نے کہا کہ رینجرز کی موجودگی سے شہرمیں امن کا قیام ممکن ہوسکا، رینجرز نے دہشت گردوں بھتہ خوروں، چور ڈکیتوں کے خلاف جو آپریشن کیے اس سے عوام اور خصوصاً تاجر برادری کو حقیقی طور پر تحفظ کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے رینجرز کے پرانے اختیارات بحال کیے جائیں تاکہ شہر میں امن قائم ہواور تاجر برادری اپنے کاروبار بلاخوف وخطر شروع کرسکیں، اور اگر سندھ حکومت نے اختیارات بحال نہ کیے تو صوبائی اسمبلی کا گھیراو¿ کریں گے۔ذرائع کے مطابق آج بروز جمعرات کراچی میں ہڑتال کا امکان ہے جبکہ گھیراﺅ جلاﺅ، احتجاجی مظاہروں اورتوڑ پھوڑ کے واقعات کا بھی امکان ہے اس سلسلے میں انتباہ کیاگیا ہے کہ شہری ہوشیار رہیں۔ علاوہ ازیںسندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات محدود کرنے پراپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے قرارداد کو مسترد کردیا جب کہ رینجرز کو پہلے جیسے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے۔سندھ اسمبلی میں رینجرز اختیارات سے متعلق مشروط قرارداد پیش کرنے پر اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں جب کہ اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی اجلاس سے واک آو¿ٹ بھی کیا۔ اجلاس کے بعد اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایوان میں انتہائی گھمنڈی ایجنڈا لایا گیا، قرارداد پر بات کرنا چاہتے تھے مگر اپوزیشن کا گلا گھونٹا گیا، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اپوزیشن کو روندا ہے۔خواجہ اظہار الحسن نے رینجرز کو پہلے جیسے اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 16 دسمبر کے روز قوم سے مذاق کیا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھے، رینجرز اختیارات سے متعلق قرارداد آئین و قانون کے منافی ہے جسے عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قرارداد کا متن اگر ایک دن پہلے دے دیتی تو کوئی قیامت نہیں آجاتی کیونکہ حکومت کو قرارداد پہلے ہمیں فراہم کرنا چاہیے تھی لیکن افسوس ہمیں کوئی بات نہیں کرنے دی گئی اور دیگر جماعتوں کو بھی اسمبلی میں بولنے نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے لینڈ مافیا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قرارداد منظور کی جس سے تصادم کرانے کی سازش کی جارہی ہے لہٰذا کراچی میں ہونے والے ا?پریشن کا دائرہ پورے سندھ تک وسیع کیاجائے۔ ایم کیوایم رہنما سید سردار احمد نے کہا کہ اسمبلی میں قرارداد بغیر کسی بحث کے منظور کی گئی جب کہ پچھلی بار رینجرز کو تمام اختیارات دیئے گئے تھے لیکن اس بار محدود کردیئے گئے، یہ قرارداد نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ہے اس لیے رینجرز کو پہلے والے اختیارات دیئے جائیں تاکہ امن قائم ہوسکے۔اس موقع پر اپوزیشن جماعت فنکشنل لیگ کے رہنما شہریار مہر نے کہا کہ اسمبلی میں قرارداد کو چوروں کی طرح پیش کیا گیا، حکومتی قرارداد کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، اسمبلی کو کرپٹ اور چوروں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ قرارداد ڈاکٹر عاصم کو بچانے کے لیے لائی گئی ہے، حکومت مشروط قرارداد اپنی کرپشن چھپانے کے لیے لائی جب کہ سندھ حکومت نے اس طرح کی قرارداد پیش کرکے اے پی ایس کے شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے۔لیاقت جتوئی نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے اس لیے یہ قرارداد نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ہے جب کہ اس طرح کی قرارداد پیش کرنے پر پیپلزپارٹی کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا کہ حکومتی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں، آج پیپلزپارٹی نے ثابت کردیا کہ وہ عوام کی جماعت نہیں، ایوان کو بادشاہ سلامت کی طرح چلایا جارہا ہے، ہم بھی دیکھتے ہیں اب پیپلزپارٹی کس طرح اس ایوان کو چلاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…