جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کچھ ہو نا ہولیکن ایک کام میں سندھ باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ گیا

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن) سندھ میں گزشتہ 5 سال کے دوران دیگر 3 صوبوں اور خود مختار علاقوں کی نسبت سب سے زیادہ دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں دی گئیں، تاہم صوبے میں اب بھی کئی مجرمان سزائے موت کے منتظر ہیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں گزشتہ ماہ نومبر تک 106 جبکہ پنجاب میں 64 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں ایک، ایک دہشت گرد کو پھانسی دی گئی.پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، فاٹا اور گلگت بلتستان میں اس عرصے کے دوران کسی دہشت گرد کو پھانسی نہیں دی گئی.اسی طرح سندھ میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد بھی دیگر صوبوں اور علاقوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔سندھ میں اس وقت 98، پنجاب میں 81، خیبر پختونخوا میں 25، بلوچستان اور اسلام آباد میں ایک، ایک قیدی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کے منتظر ہیں، جبکہ فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں کوئی بھی ایسا قیدی نہیں جسے سزائے موت سنائی گئی ہو۔واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پھانسی کی سزا پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی گئی تھی۔اگرچہ یہ اعداد و شمار گزشتہ پانچ سالوں کے ہیں، لیکن زیادر تر مجرمان کو گزشتہ سال دسمبر میں پیش آنے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد تختہ دار پر لٹکایا گیا۔رواں سال جنوری میں 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی 11 فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے 142 مقدمات بھیجے گئے جن میں سے 55 پر فیصلے ہوگئے جبکہ 87 پر کارروائی جاری ہے۔فوجی عدالتوں نے 31 مجرمان میں سے 27 کو موت کی سزا سنائی جبکہ 4 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اب تک ہزاروں دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران فاٹا میں 2 ہزار 530 دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچے، بلوچستان میں 435 دہشت گرد مارے گئے، خیبر پختونخوا میں 351، سندھ میں 342، پنجاب میں 90، اسلام آباد میں 7، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 3 اور گلگت بلتستان میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا گیا۔فاٹا میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد آپریشن ضرب عضب کے دوران ہلاک ہو ئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…