جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ‘ خواجہ آصف کے بیان نے ہلچل مچا دی

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت آنے والی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تحفظ دلانے کے لیے پاکستانی حکومت طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔ ’تاپی‘ کے نام سے مشہور اس گیس پائپ لائن منصوبے پر تعمیر کا کام اتوار 13 اگست سے شروع ہو گا جس کے لیے پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم ترکمانستان پہنچ رہے ہیں۔ دس ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی 1700 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کو دو سال میں مکمل ہونا ہے۔ یہ پائپ لائن ابتدائی طور پر 27 ارب مکعب میٹر سالانہ گیس فراہم کر سکے گی جس میں سے دو ارب افغانستان اور ساڑھے 12 ارب مکعب میٹر گیس پاکستان اور بھارت حاصل کریں گے۔ پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل تمام ملکوں کے لیے یہ پائپ لائن بہت اہم ہے اور خاص طور پر پاکستان میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں اس منصوبے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ’اسی لیے ہماری بھرپور کوشش ہوگی یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہو اور خاص طور پر اس منصوبے کو افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے جو ممکنہ خدشات لاحق ہو سکتے ہیں ان کا حل کیا جا سکے۔‘ اس سوال پر کہ پاکستان اس پائپ لائن کو تحفظ دینے کے لیے کیا افغانستان میں متحارب گروہوں، خاص طور پر طالبان شدت پسندوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا، وزیر دفاع نے کہا کہ ’ضرور استعمال کریں گے۔ اپنے مفاد کے لیے ہم جو بھی مثبت کردار ادا کر سکے ہم کریں گے۔‘ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ منصوبہ افغانستان کے لیے بھی بہت اہم ہے اس لیے کوئی بھی افغان فریق اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ انھوں نے 1990 کی دہائی میں اسی نوعیت کے ایک منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان میں برسر اقتدار طالبان نے امریکی کمپنی یونیکال کے ذریعے بننے والی گیس پائپ لائن کے تحفظ کی ضمانت دی تھی۔ ’ہمیں اب بھی یقین ہے کہ طالبان شدت پسند اس منصوبے کی مخالفت نہیں کریں گے کیونکہ یہ منصوبہ افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے بھی اہم ہے اور کوئی بھی افغان گروہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔‘ اس منصوبے کے بروقت مکمل ہو جانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس منصوبے نے مکمل تو ہونا ہے لیکن کچھ تاخیر ممکن ہے۔ ’اس پائپ لائن نے بننا تو ضرور ہے۔ اس میں کچھ دیر سویر تو ہو سکتی ہے یعنی اگر 2018 میں نہ مکمل ہوئی تو 2019 میں تو یہ مکمل ہو ہی جائے گی –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…