جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کیلئے اسلام آباد ائیرپورٹ پر نئی مشکل کھڑی ہوگئی،حالات کشیدہ

datetime 3  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستانی حکام نے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یونان سے آنے والے 30 سے زیادہ پاکستانیوں کو طیارے سے اترنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ان افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ا±نھیں یونان سے غیر قانونی دستاویزات رکھنے پر ملک بدر کیا گیا ہے۔ایئرپورٹ پر موجود وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حکام کے مطابق ا±نھیں وزارت داخلہ کی طرف سے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں جب تک دیگر ملکوں اور بالخصوص یورپ سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں ناقابل تردید شواہد پیش نہیں کیے جاتے اس وقت تک ا±نھیں پاکستانی سرزمین پر لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تاہم ایف آئی اے کے حکام کے مطابق وزارت داخلہ کی طرف سے ا±نھیں اس طیارے کو واپس بھیجنے سے متعلق ہدایات نہیں ملیں۔وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق تارکین وطن کے امور کے بارے میں یورپی یونین کے حکام سے حالیہ ملاقات کے طے کیا گیا تھا کہ یورپی یونین اور پاکستانی حکومت کے درمیان سنہ 2009 میں ہونے والے معاہدے کے سقم دور کیے جائیں گے۔وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا اور اس سے پہلے ہی یورپی یونین کے رکن ملک کی طرف سے اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جن پاکستانیوں کو یونان سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے ان کے بارے میں پاکستانی حکام کو پہلے سے نہ تو کوئی معلومات دی گئیں اور نہ ہی ان افراد کی شہریت کے بارے میں پاکستانی حکام نے کوئی تصدیق کی ہے۔وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس سے پہلے بھی یونان سے کچھ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا تاہم ا±نھیں جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔اہلکار کے مطابق یونان میں سینکڑوں پاکستانی جعلی دستاویزات کے الزام میں پکڑے گئے ہیں جنھیں واپس بھجوانے کے لیے یونان کی حکومت نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو پاکستان میں کینیڈین ہائی کمشنر کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کی سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے کسی بھی ڈی پورٹ ہونے والے شخص کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ا±ن کے ساتھ آنے والے سرکاری حکام کو امیگریشن کی اجازت دی جائے گی۔وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی پاکستانی شہری کو حکومت پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے جاری کردہ سفری دستاویزات پر ڈی پورٹ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…