جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے شراب سمیت قیمتی تحائف

datetime 3  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قرضوں میں جکڑے ہوئے ملک کے امیرحکمراں سفارتی آداب کے تحت اعلیٰ امریکی شخصیات کوتحفے دینے کی روایت پرعمل پیرا ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف اعلیٰ امریکی شخصیات کو غالیچے تحفے میں دیتے ہیں، پاکستان کے سابق صدرنے تعلقات بہتر بنانے کیلیے پاکستان میں امریکی سفیر کو فرانسیسی شراب کا تحفہ دیا۔ امریکی فیڈرل رجسٹرارآفس کی دستاویزات کے مطابق سال2013کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے امریکی صدربارک اوباما کو 600 ڈالرمالیت کاروایتی پاکستانی کارپٹ تحفے میں دیا جس کی ریکارڈ میں وصولی 31 اکتوبر 2013کوظاہرکی گئی۔وزیر اعظم نے اسی اثنا میں امریکا نائب صدرجوزف بائیڈن کو2800ڈالرکا ریشمی قالین گفٹ کیا۔ وزیر اعظم کی فیاضی اعلیٰ حکومتی عہدے داروں تک ہی محدود نہ رہی بلکہ انھوں نے وائٹ ہاو¿س کے اسٹاف ممبرجیفری ایگرزکو بھی500 ڈالر مالیت کاقالین گفٹ کیا۔ سابق صدر آصف زرداری نے پاکستان میں امریکی سفیررچرڈ اولسن کو فرانسیسی وائن Premier Grand Cru Classé کا تحفہ دیا، یہ وائن دنیاکی مشہور فرانسیسی وائن کمپنیChâteau Margaux نے1986میں کشیدکی تھی، وائن کی اس بوتل کی امریکی رجسٹرار ڈپارٹمنٹ نے قیمت682ڈالراور وصولی کی تاریخ25فروری2013درج کی ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے امریکاکے ڈیفنس سیکریٹری چک ہیگل کو600ڈالر مالیت کا قالین نومبر2013میں گفٹ کیا۔ امریکا میں تعینات پاکستان کی سفیر شیری رحمن نے امریکا کے اسسٹنٹ سیکریٹری آف ڈیفنس برائے ایشیااینڈ پیسفک سیکیورٹی افیئرزPeter Lavoy کو450 ڈالرمالیت کے کف لنک مئی 2013 میں گفٹ کیے۔سال2013کے دوران پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینیٹرز اور دیگر اہم شخصیات کو حکومت پاکستان نے سفری اخراجات بھی ادا کیے جن شخصیات نے 2013کے دوران حکومت پاکستان سے سفری اخراجات وصول کیے ان میں امریکی سینیٹر باب کورکر، کمیٹی برائے امور خارجہ میں اقلیتوں کے چیف قونصل جمیل جعفراوراقلیتوں کے پروفیشنل اسٹاف ممبر مائیکل پیھلان شامل ہیں۔ ان تحائف اور سفری اخراجات قبول کرنے کے بارے میں امریکی رجسٹرار ڈپارٹمنٹ نے توجیح دی ہے کہ یہ تحائف نہ وصول کرنے کی صورت میں تحائف دینے والے ملک اور امریکی حکومت کوسبکی کا سامناکرناپڑتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…