جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

داعش پنجاب میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: محکمہ داخلہ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)ایک طرف حکومت ملک میں دہشت گرد تنظیم داعش کی عملی طور پر موجودگی نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری طرف اسے داعش کے حملوں کا خطرہ بھی ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ داعش صوبے میں مختلف مقامات پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔حکومتی الرٹ میں خاص طور پر ضلع گجرات میں جلال پور جٹان روڈ پر گشت کرنے والی فوج کی گاڑیوں اور جی ٹی روڈ پر پولیس موبائلوں پر حملے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔نجی اداروں پر حملے کے خدشے کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 دہشت گردوں کا گروپ لاہور پہنچ چکا ہے جو نجی اداروں بالخصوص ان کے سیکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔انٹیلی جنس حکام کے مطابق اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اور غیر ملکی بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ داعش کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو فول پروف سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس و فوج کی گاڑیاں اور نجی ادارے داعش سے منسلک دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔داعش کے حملوں کے حوالے سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ وفاقی حکومت کے ان دعوؤں سے متصادم ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔تاہم وزیر قانون پنجاب رانا ثناہ اللہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس خطرے کو معمول کی بات قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب میں داعش کا کوئی وجود نہیں، کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے چند شدت پسند مسائل پیدا کر رہے ہیں جن کے خاتمے کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔دوسری جانب راولپنڈی کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) محمد فخر سلطان راجا حملوں کے خطرے کے پیش نظر نجی اداروں کے تعاون سے احتیاطی اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…