جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

غیرقانونی مائیگریشن ،پاکستان اور برطانیہ میں معاملات طے

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

ویلیٹا،مالٹا(نیوزڈیسک)پاکستان اوربرطانیہ نے دہشتگردی، منظم جرائم اورغیرقانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ملکرکام کرنے عزم کااعادہ کرتے ہوئے دولت مشترکہ کے اہداف کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں کرنے پراتفاق کیا ہے،وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ پاکستان قومی ایکشن پلان کے تحت ملک سے دہشتگردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے سخت کارروائیاں کررہاہے، آپریشن ضرب عضب اپنی کامیاب تکمیل کی جانب بڑھ رہاہے،بھارت اورافغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کے خواہاں ہیں،جبکہ وزیراعظم برطانوی وزیراعظم نے دہشتگردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششو ں کو سراہتے ہوئے مضبوط معیشت اورسماجی اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے مکمل برطانوی حمایت کا یقین دلایاہے۔جمعہ کووزیراعظم محمدنوازشریف نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈکیمرون سے دولت مشترکہ اجلاس کی سائیڈلائنز پرملاقات کی ،دونوں رہنماﺅں نے تجارت ،سرمایہ کاری اور سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا،پاکستان اوربرطانیہ کے وزرائے اعظم نے اپنے ممالک کی سیکیورٹی اورخوشحالی کیلئے ملکر کام کرنے کے عزم کااظہارکیا، دونوں وزرائے اعظم نے دہشتگردی، منظم جرائم اورغیرقانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ملکرکام کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔ نوازشریف نے کہاکہ پاکستان برطانیہ کو ایک قریبی دوست اورقابل اعتماد شراکت دارسمجھتا ہے انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط بنیادوں پرقائم ہیں۔ انہوں نے سٹریٹجک مذاکرات کے سلسلہ میں پاک برطانیہ تعاون کے حوالے سے ہونیوالی پیشرفت پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ تجارت ،سرمایہ کاری ،ثقافت، تعلیم اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تازہ روڈ میپ کی وجہ سے تعلقات کو استحکام حاصل ہوا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ پاکستان دہشتگردی کی تمام شکلوں اور حالتوں کی مذمت کرتا ہے اور اسے پیرس میں پیش آنیوالے دہشتگردی کے حالیہ واقعات پرگہرات دکھ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان خود دہشتگردی کاشکار ہونے کے ناطے فرانسیسی عوام کے درد کو محسوس کرسکتا ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ پاکستان ملک میں قومی ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے سخت کارروائیاں کررہاہے انہوں نے برطانوی ہم منصب کو بتایا کہ دہشتگردوں کیخلاف جاری آپریشن ضرب عضب اپنی کامیاب تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس آپریشن کے دوران پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کیخلاف سخت اقدامات کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے سماجی شعبوں بالخصوص تعلیم کیلئے برطانیہ کی مسلسل حمایت پر تشکرکااظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی)کی طرف سے کئے جانیوالے تعاون کاخاص طورپرحوالا دیا۔وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ پاکستان بھارت اورافغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کاخواہاں ہے ۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس معاہدے کے نتیجہ میں پاکستانی معیشت کے فروغ کاخیرمقدم کیا انہوں نے مضبوط معیشت اورسماجی اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے پاکستانی کوششوں کی بھرپور حمایت کااظہار کیا۔برطانوی وزیراعظم نے عسکریت پسندی اورانتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانیوالی کوششوں کو سراہا ۔دونوں رہنماﺅں نے دولت مشترکہ کی اہمیت سے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ تمام رکن ممالک کوتنظیم کے مشرکہ اہداف کے حصول کیلئے ملکرکام کرناچاہیے ۔پاک برطانیہ وزرائے اعظم نے عالمی اورعلاقائی اہمیت کے امورپربھی تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطی کی صورتحال سے متعلق امورزیرغورلائے گئے۔دونوں وزرائے اعظم کے درمیان رواں سال یہ تیسری ملاقات تھی ۔اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیز، خصوصی معاون طارق فاطمی، سیکرٹری خارجہ اعزازچودھری اور مالٹا کیلئے پاکستانی سفیر ظہیرپرویزخان بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…