جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا : قومی وطن پارٹی پھر کابینہ میں شامل ہو گئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک) قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) 2 سال بعد خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی حکومت میں شامل ہو گئی۔قومی وطن پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی سکندر شیر پاؤ اور انیسہ زیب طاہر خیلی نے وزارتوں کا حلف اٹھا لیا۔ان کے علاوہ دو ارکان اسمبلی ارشد علی اور عبد الکریم کو وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی بنایا گیا ہے۔خیال رہے کہ نومبر 2013 میں قومی وطن پارٹی خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے اس وقت الگ ہوئی تھی جب اس کے 2 وزراء کو تحریک انصاف نے کرپشن کے الزامات پر کابینہ سے نکل دیا تھا جبکہ سکندر شیر پاؤ جو صوبے کے سینئر وزیر تھے وہ احتجاجاََ مستعفی ہو گئے تھے۔قومی وطن پارٹی کے سکندر شیر پاؤ نے داخلہ، قبائلی علاقہ جات اور آب پاشی جبکہ انیسہ زیب طاہرخیلی نے لیبر اور معدنیات کی وزارت کا حلف اٹھایا۔پشاور کے گورنر ہاؤس میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد عباسی نے وزراء سے حلف لیا۔تقریب میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سمیت دیگر اعلی حکام سمیت پارٹی عہدیداران بھی موجود تھے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی کو وزارت سے فارغ کردیا گیا ،قومی وطن پارٹی کے وزراء کی کابینہ میں شمولیت کے باعث مشتاق غنی وزارت سے فارغ کیے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی کو وزارت سے وزیر اعلی پرویز خٹک نے فارغ کیا جبکہ ان کو وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی بنایا جا سکتا ہے۔
مشتاق غنی کو ایک سال قبل جولائی 2014 میں وزیر اطلاعات بنایا گیا تھا، ان سے قبل شاہ فرمان صوبائی وزیر اطلاعات تھے، جن کو خراب کارکردگی پر برطرف کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ صوبائی کابینہ میں موجود وزراء کی تعداد 13 ہے، 18ویں ترمیم کے بعد آئینی گنجائش 14 وزراء کی ہے اسی لیے قومی وطن پارٹی کے 2 وزراء کے لیے کابینہ سے ایک وزیر کو فارغ کرنا پڑا۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک ہفتہ قبل قومی وطن پارٹی کو کابینہ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد میں دھرنے کے دوران عمران خان کی جانب سے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھا۔خیال رہے کہ 2013 میں قومی وطن پارٹی کے وزیر محنت بخت خان اور وزیر جنگلات ابرار حسین کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کابینہ سے فارغ کیا گیاتھا۔بعد ازاں بخت خان نے عمران خان کے خلاف کرپشن کے الزام پر ایک ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا جبکہ عمران خان کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کروایا تھا کہ بخت بیدار نے سرکاری اداروں میں 110 غیر قانونی بھرتیاں کیں، سرکاری گاڑی کیلئے ایندھن اور مرمت کی مد میں ساڑھے 7 لاکھ روپے نکلوائے حالانکہ وہ گاڑی ان کے بھائی کے زیر استعمال تھی۔دوسری جانب کرپشن کے الزام میں کابینہ سے برطرف کیے گئے ابرار حسین نے عمران خان اور جہانگیر ترین پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے۔ابرار حسین نے سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کے کرپشن کے ثبوت سامنے لانے کا اعلان کیا تھا البتہ 2 سال کے دوران وہ ایسا نہ کر سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…