جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

رقیاتی منصوبوں پربلا جواز تنقید کا جواب ملکی ترقی کی رفتار مزیدبڑھا کر دیں گے ،وزیراعظم نواز شریف

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپوزیشن کی تنقید کا بھر پور جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کرنے والے سوچ سمجھ کر بات کیا کریں، بلا جواز تنقید کے نتیجہ میں ہمارا جواب ملکی ترقی کی رفتار مزیدبڑھا کر دیں گے ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میٹرو بس نہیں،بلکہ تعلیم چاہیے،ہم کہتے ٹرانسپورٹ اور تعلیم دونوں کی اپنی اہمیت ہے ،کیا عوام کو با عزت سواری نہ دی جائے ،سیاسی مخالفین میٹرو بس پر تنقید کر رہے ہیں لیکن ہم میٹرو ٹرین لے کر آرہے ہیں جس پر پاکستان کے عوام فخر کر سکیں گے،حکومت نے بڑے تین منصوبوں میں 110ارب روپے کی خطیر رقم کی بچت کر کے تاریخ میں نئی روایت قائم کی ہے ،ہم نے سیاسی رسک لے کرتحر یک انصاف کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنا یا جس نے دھاندلی کے تمام الزامات کو مستر دکر دیا میں کہہ چکا تھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن کا ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو میں سٹپ ڈاؤن کر جاؤں گا لیکن دھرنے والوں کے خلاف تو بھرپور فیصلہ آیا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی،وزیر اعلیٰ پنجاب کی ٹیم اور ان کے پروگرام قابل ستائش ہے ، پنجاب کی طرح کے کام باقی صوبوں خاص طو رپر پشاور میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں جہاں جتنا جلدی ہوسکے نیا پاکستان بننا چاہیے ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہر معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا لیکن ایک پارٹی تلی ہوئی ہے کہ حکومت کی کسی بھی مثبت چیز میں شامل نہیں ہونا بلکہ دھرنوں ،توڑ پھوڑ او رمیں نہ مانوں والی سیاست کرنی ہے،وہ ہر چیز کو سیاست جبکہ ہم ہر چیز کو پاکستان کی خوشحالی کی نظر سے سوچتے ہیں ہم میں اور ان میں یہی فرق ہے ،اگر خلو ص نیت سے عوام کی خدمت کریں تو عوام آپ کو دو تین چار نہیں بلکہ دس بار حکومتیں دینے کو تیار ہیں،کسان روزی پر لات مارنے والوں سے ضرور سوال کریں،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سیاست کی نذرنہیں ہوناچاہیے‘،دسمبر2018 تک بجلی کے 36سو میگاواٹ سمیت دیگر منصوبے مکمل ہوجائیں گے،بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل مذاکرات سے حل کر نا چاہتے ہیں ۔وہ گزشتہ روز گورنر ہاؤس لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبے پر بریفنگ اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔ اس موقع پر گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، چیف سیکرٹری پنجاب خضر حیات گوندل ،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ عرفان الٰہی ، کمشنر لاہور ڈویژن عبد اﷲ خان سنبل ،ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ ، خواجہ احمد حسان ،روحیل اصغر سمیت اعلیٰ افسران بھی موجودتھے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کی اپنی اہمیت جس پر پورا کام ہو رہا ہے اسی طرح ٹرانسپورٹ کا اپنا مقام ہے کیا غریب لوگوں کو سستی ٹرانسپورٹ نہیں چاہیے ۔ کیا ان کو با عزت قسم کی سواری نہیں چاہیے ۔ یہاں ایک رواج بنا ہوا تھا کہ لوگ بسوں پر لٹکتے ہوتے تھے اور سکول جانے والے بچے بسوں کے پیچھے لٹکے ہوئے ہوتے تھے اور حادثات بھی ہیں لیکن ہم نے اس صورتحال کو بدلا ہے او رایک نیا کلچر پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام کو باعزت سواری میسر آئی ہے ۔ ہم نے تعلیم پر خرچ ک

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…