کراچی (نیوزڈیسک) پنجاب میں ایک اہم اور معروف وزیر کے قتل نے نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں کی کہانیوں کے پس منظر میں پورے ملک میں پریشانی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے۔ انٹلی جنس اطلاعات کی موجوگی میں ایسا ردعمل متوقع اور خود وزیر بھی دھمکیوں سے آگاہ تھے۔ اس کے باوجود کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہید ہوئے اور انہوں نے شریف برادران، حکومت اور ریاست کے لئے دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے پیچھے ایک بڑا چیلنج چھوڑ دیا۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد پہلی بار مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم رہنماء قتل ہوئے اور وہ بھی اپیکس کمیٹی اجلاس کے محض چند دنوں بعد ہی انہیں نشانہ بنا دیا گیا۔ اسی کمیٹی نے پنجاب میں آپریشن کلین اپ کا فیصلہ کیا تھا۔ روزنامہ جنگ کے سیاسی تجزیہ کارمظہرعباس کے مطابق اس سانحے نے وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیا اب یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن گھڑی ہے؟ وزیرداخلہ پنجاب کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے قتل سے وزیراعظم نوازشریف کو ایک ایسے وقت دھچکا پہنچا جب 2013ء کے عام انتخابات میں کامیابی کی توثیق کرنے والی عدالتی کمیشن کی رپورٹ پر انہوں نے سکون اور اطمینان کا سانس لیا تھا۔ شریف برادران کے لئے شجاع خانزادہ کا متبادل تلاش کرنا کوئی آسان نہ ہوگا لیکن دیکھنا ہوگا کہ وہ کس سرعت اور کس حد تک دہشت گردی کے خلاف جاتے ہیں۔ یہ حملہ بھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں ملوث 7 دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائے موت کی توثیق کے ایک ہفتہ بعد ہی ہوا۔ اب دہشت گرد نیٹ ورکس سے نمٹنا ہی شریف برادران کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ وزیراعظم نوازشریف، مشاہد اللہ خان کے تنازع اور ان کی برطرفی ہی سے سنبھل نہ پائے تھے کہ خودکش حملے میں شجاع خانزادہ کی شہادت ناقابل یقین تھی۔ گوکہ انہیں براہ راست قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ وہ تحریک انصاف کے اُمیدوار کے خلاف ہری پور کا ضمنی انتخاب بھاری اکثریت سے جیتنے پر ن لیگ کے اُمیدوار بابر زمان کو اس سانحے کے باعث مبارکباد بھی نہ دے سکے، یہ ان کے لئے جشن کا موقع نہ تھا لیکن عمران خان کی بھی تعریف کی جانی چاہئے کہ انہوں نے کرنل شجاع خانزادہ کے انتقال سے خالی نشست پر اپنا امیدوار نہ لانے کا اعلان کیا۔ برطرف وزیر مشاہد اللہ خان نے پیر کووزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کر کے بی بی سی کو اپنے انٹرویو پر پوزیشن کی وضاحت کی۔ ذرائع کے مطابق ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مزید کسی تنازع سے گریز کریں اور جتنا ممکن ہو سکے خود کو میڈیا سے دُور رکھیں۔ ان کے انٹرویو نے میڈیا میں ایک ہیجان برپا کیا جبکہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس کا کوئی خوشگوار تاثر نہیں لیا، لیکن فوری کارروائی نے کشیدگی کو کسی حد تک کم کیا ہے، لیکن لگتا ہے کہ کچھ وزراء اور پارٹی رہنما وزیراعظم کے لئے پریشانی اور شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ ن لیگ کے ایک اور رہنماء ظفر علی شاہ نے ایم کیو ایم کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے نوازشریف کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے ارکان پارلیمنٹ کے استعفوں کی منظوری کیلئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے۔ اگر ظفر علی شاہ نے چاہے اپنے طور پر ایسا کیا ہوا لیکن اس اقدام سے انہوں نے وزیراعظم کو پریشان ضرور کر دیا۔ ایسی ہی پٹیشن مولوی اقبال حیدر نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے لئے عدالت عظمیٰ میں دائر کی۔ اگر یہ دونوں درخواستیں سماعت کیلئے منظور ہوتی ہیں تو اس کا مطلب ہو اکہ 70 ارکان قومی اسمبلی کی قسمت لٹک جائے گی۔ کرنل شجاع خانزادہ کے قتل کو بھی وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے لئے براہ راست خطرہ سمجھنا چاہئے کیونکہ انہوں نے صوبے اور خصوصاً جنوبی پنجاب سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انٹلی جنس اطلاعات کے ساتھ ایسے واضح اشارے بھی ہیں کہ خصوصاً پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ ماضی میں عوامی لیگ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم ہٹ لسٹ پر رہے اور ان کے رہنماء قتل بھی ہوئے۔ حتیٰ کہ 2013ء میں انتخابی مہم کے دوران جے یو آئی (ف) کے رہنماء مولانا فضل الرحمٰن خودکش حملے میں بچ گئے، گوکہ حالیہ برسوں کے دوران پنجاب میں بڑے دہشت گرد حملے ہوئے جن میں حساس تنصیبات پر خودکش حملے بھی شامل ہیں لیکن پنجاب میں ان عناصر کے خلاف آپریشن کی قیادت کرنے والے شخص کے کے قتل نے شریف برادران کو حیرت زدہ کر دیا، لہٰذا یہ شریف برادران کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے جو شاید ان کی نقل و حرکت کو بھی محدود کر دے۔ شریف برادران اور مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کے لئے سیاست اب شاید آسان نہ ہو، انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسی کہ ماضی میں دیگر تین سیاسی جماعتوں کو درپیش رہی۔ سب سے بڑا سوال پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے ممکن ہونے کے بارے میں اُٹھ سکتا ہے۔ اگر حکومت کالعدم گروہوں کے بڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جس کے لئے اسے رینجرز کو تعینات کرنا ہوگا، تب شریف برادران کو آنے والے دنوں میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ انٹلی جنس اداروں نے مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنمائوں اور وزراء کو پہلے ہی خبردار کر دیا ہے لیکن شریف برادران کے سخت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ کر لیا ہے، لہٰذا شریف برادران اب سیاست کو ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ ایسا کر سکیں گے؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے حکومت کا بڑا اعلان
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
راولپنڈی میں زیادتی کا شکار ہونے والی 15 سالہ طالبہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ، پولیس نے ملزم کو گرفتار...
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، وزیراعظم کا آج قوم سے خطاب متوقع
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا اعلان
-
وزیراعلی نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کر دیں
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر 9 اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا
-
آج رات ایک پوری تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی، ٹرمپ



















































