منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بلدیہ کراچی کے دفترپر ایف آئی اے نے چھاپہ کیوں مارا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 13  جولائی  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے لئے کراچی میں متعدد افراد کام کرتے ہیں اور اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یہ بات چیف منسٹر ہائوس میں منعقد ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور آئی ایس آئی کے افسروں نے بتایا کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں ، جن کی مدد سے ’’را‘‘ کے لئے کام کرنے والوں کا پتہ چلالیا گیا ہے۔ کچھ بینک اکائونٹس میں بیرون ملک سے رقوم منتقل ہوئی ہے۔ رقوم بھیجنے والوں کا ’’را‘‘ سے تعلق ہے۔ اب یہ پتہ چلایا جارہا ہے کہ یہ رقوم کہاں جاتی ہیں۔ ’’را‘‘ کے یہاں موجود لوگوں سے رابطوں کا بھی پتہ چلالیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جلد کارروائی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ بلوچستان سرحد پر کالعدم تنظیموں نے اپنے نیٹ ورکس مضبوط کرلئے ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف انکی نقل وحرکت جاری ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں صوبوں کی مشتر کہ سرحد پر کالعدم تنظیموں کیخلاف فوری طور پر کریک ڈائون کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ وہ جلد وزیراعلیٰ بلوچستان سے رابطہ کریں تاکہ بلوچستان حکومت کے ساتھ ملکر فوری کریک ڈائون کی حکمت عملی طے کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات نے اجلاس کو بتایا کہ ایف آئی اے نے بلدیہ عظمیٰ کراچی ’’کے ایم سی‘‘ کے دفتر پر چھاپہ نہیں مارا تھا بلکہ ایف آئی اے کو یہ معلوم ہوا تھا کہ کے ایم سی میں ایک جعلی اکائونٹ کے ذریعے لین دین ہورہا ہے۔ اس اکائونٹ کو چیک کرنا ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے۔ مذکورہ اکائونٹ میں 12 کروڑ روپے ماہانہ منتقل کئے جاتے تھے۔ کے ایم سی کی تنخواہوں کا ایک تہائی بجٹ اس اکائونٹ میں منتقل ہوجاتا تھا اور یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہورہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں رینجرز اور ایف آئی اے کی حالیہ کارروائیوں پر کوئی زیادہ بات نہیں ہوئی اور نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزراء کی طرف سے اس معاملے پر کسی قسم کی تشویش کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے اینٹی کرپشن کا صوبائی محکمہ وزیر سے لیکر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ اس محکمے کو زیادہ فعال بنایا جائے گا اور اس کی تنظیم نو کی جائیگی تاکہ کرپشن کے خلاف مہم کو تیز کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…