منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

گوجرانوالہ ٹرین حادثہ، ڈرائیور نے اوور اسپیڈنگ کی، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف

datetime 5  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاک فوج اور ریلوے کے اعلی افسروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی دوسرے روز کی انکوائری کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ جائے حادثہ سمیت سانگلہ ہل ، وزیر آباد ریلوے سیکشن کا ٹریک نارمل حالت میں نہیں تھا۔ اس سیکشن پر ٹرین کی رفتار کی زیادہ سے زیادہ حد 30 کلو میٹر فی گھنٹہ مقرر تھی۔ اس حقیقت سے لاعلم انجن ڈرائیور حادثے سے پہلے 65 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین بھگا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ کے قریب ٹرین حادثے کی تحقیقات کرنیوالی پاک فوج اور ریلوے کے اعلی حکام پر مشتمل جائینٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے دوسرے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں بھی تحقیقات جاری رکھیں جن کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ سانگلہ ہل، وزیر آباد ریلوے سیکشن کے ٹریک پر گزشتہ کئی برسوں سے نارمل سپیڈ 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کی بجائے ٹریک ان فٹ ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہونیوالے انجن آر جی 2400 کے ساتھ گزرنے پر زیادہ سے زیادہ حد رفتار 30 کلو میٹر فی گھنٹہ مقرر تھی جس کا شہید انجن ڈرائیور ریاض کو علم ہی نہیں تھا اور حادثے سے پہلے ٹرین کی رفتار 65 کلو میٹر تھی۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹرین کا اور سپیڈ ہونا حادثے کا حتمی سبب نہیں بلکہ ان فٹ ٹریک پر حادثے کے بعد تین فش پلیٹیں بھی اکھڑی پائی گئیں جبکہ کئی جگہ پر فش پلیٹوں کے نٹ اور بولٹس یا تو سرے سے غائب تھے یا ڈھیلے پائے گئے جن کو مشترکہ ٹیم کی انسپکشن سے پہلے ٹریک پر دوبارہ فٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ تفتیش نے یہ رخ بھی اختیار کیا ہے کہ امریکی ساخت کا اڑتالیس سال پرانا انجن پندرہ سال پہلے بحال اور مرمت کیا گیا تھا اس میں بھی خرابی ہو سکتی ہے ۔ اس اہم نکتے کی انکوائری کے لئے اتوار کو مشترکہ ٹیم ایک بار پھر جائے حادثہ پر پہنچے گی۔ ریلوے انتظامیہ کو انجن اتوار کی صبح تک نہر سے نکالنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…