منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

خالد انور نے جرمنی کے آئین کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں قانون ساز ادارہ آئین کا پابند ہے جبکہ عدلیہ اور انتظامیہ کا معاملہ مختلف ہے یہ پاکستان کے آئین سے مختلف ہے اگر ریلیف لینے کا کوئی اور طریقہ نہ مل رہا ہو تو کوئی بھی جرمن کسی بھی قانون کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور آئین سازوں کو اس حوالے سے قانون بنانا پڑے گا۔ نائن الیون کے بعد امریکی قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ کانگریس اس حوالے سے قرار داد پیش کی یہ ایکٹ آف کانگریس نہیں تھا ان حالات میں سویلین کو فوجی کمیشن کے تحت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا فوجی عدالتیں صرف فوجیوں کے لئے ہیں جبکہ فوجی ٹربیونلز میں سویلین کے مقدمات بھی جاتے ہیں۔ فوجی کمیشن کا تعلق فوجی عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا الگ طریقہ کار ہوتا ہے وہ صرف سویلین پر فوکس رکھتے ہیں۔گوانتانا موبے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت وجود میں آیا تاہم کانگریس کی مخالفت پر اس حوالے سے قانون سازی کی گئی اور ایکٹ بنایا گیا۔ سپریم کورٹ کو بغیر کسی ترمیم کے انتظامی اختیار دیا گیا ہے۔ 6 سال گزر گئے گوانتانا موبے کام کر رہا ہے حالانکہ اس نے حلف لینے سے قبل کہا تھا کہ وہ صدر بنتے ہی اس کو بند کرنے کے احکامات جاری کریں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بہرحال یہاں 2 سال کی بات نہیں کی گئی تھی اور اس کا حوالہ نہیں بنتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ نظریہ ضرورت ہے جو ہم نے دفن کر دیا تھا اور اب آپ زندہ کر رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نے کہا کہ بالٹی مور سے کسی کو گرفتار کرنے کے لئے امریکی دائرہ کار تک کو معطل کر دیا گیا تھا ان کی اپنی تاریخ ہے۔ امریکی آئین ترمیم 3 مرتبہ چیلنج ہوئیں کیا بنیادی آئینی ڈھانچے کے تحت عدالتوں نے کالعدم قرار دیا ہو خالد انور نے کہا کہ عدالتوں نے اس کو اختیار ہی نہیں کیا۔ نائن الیون کے دوران حملے میں زیادہ افراد نہیں مارے گئے۔ یہ عدالتیں عارضی نوعیت کی ہیں تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے ان کا وجود لایا گیا جس ملک میں جمہوریت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ کام کرتی عدالتوں کی جگہ اور عدالتیں نہیں بن سکتیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…