پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

خالد انور نے جرمنی کے آئین کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں قانون ساز ادارہ آئین کا پابند ہے جبکہ عدلیہ اور انتظامیہ کا معاملہ مختلف ہے یہ پاکستان کے آئین سے مختلف ہے اگر ریلیف لینے کا کوئی اور طریقہ نہ مل رہا ہو تو کوئی بھی جرمن کسی بھی قانون کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور آئین سازوں کو اس حوالے سے قانون بنانا پڑے گا۔ نائن الیون کے بعد امریکی قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ کانگریس اس حوالے سے قرار داد پیش کی یہ ایکٹ آف کانگریس نہیں تھا ان حالات میں سویلین کو فوجی کمیشن کے تحت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا فوجی عدالتیں صرف فوجیوں کے لئے ہیں جبکہ فوجی ٹربیونلز میں سویلین کے مقدمات بھی جاتے ہیں۔ فوجی کمیشن کا تعلق فوجی عدالتوں سے نہیں ہوتا ان کا الگ طریقہ کار ہوتا ہے وہ صرف سویلین پر فوکس رکھتے ہیں۔گوانتانا موبے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت وجود میں آیا تاہم کانگریس کی مخالفت پر اس حوالے سے قانون سازی کی گئی اور ایکٹ بنایا گیا۔ سپریم کورٹ کو بغیر کسی ترمیم کے انتظامی اختیار دیا گیا ہے۔ 6 سال گزر گئے گوانتانا موبے کام کر رہا ہے حالانکہ اس نے حلف لینے سے قبل کہا تھا کہ وہ صدر بنتے ہی اس کو بند کرنے کے احکامات جاری کریں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بہرحال یہاں 2 سال کی بات نہیں کی گئی تھی اور اس کا حوالہ نہیں بنتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ نظریہ ضرورت ہے جو ہم نے دفن کر دیا تھا اور اب آپ زندہ کر رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نے کہا کہ بالٹی مور سے کسی کو گرفتار کرنے کے لئے امریکی دائرہ کار تک کو معطل کر دیا گیا تھا ان کی اپنی تاریخ ہے۔ امریکی آئین ترمیم 3 مرتبہ چیلنج ہوئیں کیا بنیادی آئینی ڈھانچے کے تحت عدالتوں نے کالعدم قرار دیا ہو خالد انور نے کہا کہ عدالتوں نے اس کو اختیار ہی نہیں کیا۔ نائن الیون کے دوران حملے میں زیادہ افراد نہیں مارے گئے۔ یہ عدالتیں عارضی نوعیت کی ہیں تمام سیاسی جماعتوں کی باہمی مشاورت سے ان کا وجود لایا گیا جس ملک میں جمہوریت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ کام کرتی عدالتوں کی جگہ اور عدالتیں نہیں بن سکتیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…