جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ،سرینگر اور وادی کے دیگر مقامات پر احتجاجی مظاہرے

datetime 19  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں تین نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ ترال میں دو نوجوانوں کے بعد نارہ بل بڈگام میں تیسرے معصوم طالب علم سہیل احمد کی شہادت کے خلاف ضلع بڈگام میں اتوار کو ہڑتال رہی ۔ تمام کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی وادی میں حالات سخت کشیدہ ہیں جگہ جگہ فوجی دستے تعینات کئے گئے ہیں ،سرینگر اور بڈگام میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ،اتوار کو بھی فوج نے کئی مقامات پر لوگوں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جس سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے ۔علاوہ ازیں ایک بیان میں گیلانی نے اس پروپیگنڈے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ نارہ بل میں نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ ہڑتال کال کی وجہ سے پیش آیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ترال میں جب فوج نے دو معصوم نوجوانوں کو قتل کیا، ا±س دن حریت کی طرف سے کوئی ہڑتال کال نہیں دی گئی تھی اور نہ وہاں کوئی احتجاج ہورہا تھا،یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے کے مترادف معاملہ ہے اور حکومت اس طرح کے پروپیگنڈے سے” سرکاری دہشت گردی “پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ حریت چیئرمین نے ہڑتال کو قتلِ ناحق کے خلاف احتجاج کرنے کا ناگزیر آپشن قرار دیتے ہوئے کہا” ہڑتال کرانا ہمارا کوئی مشغلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس وقت ہمارے لےے ایک ضرورت بن جاتی ہے جب سرکاری فورسز معصوم انسانوں کو قتل کرتی ہیں، لہٰذا ہڑتال کرانے کا اصل محرک وہ فورسز اہلکار بنتے ہیں جو نہتے انسانوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ فورسز میں ڈسپلن ہوتا اور ان کی کوئی جوابدہی ہوتی تو نارہ بل میں ایک معصوم بچے کی ہلاکت کا ٹالا جاسکتا تھا، اس بچے کے ہاتھوں میں کوئی بندوق نہیں تھی کہ اس سے وہ کسی فورسز اہلکار کو ہلاک کردیتا یا ان کو کوئی نقصان پہنچاتا۔ ہڑتال کو ضلع سطح تک محدود کرانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر میں خونِ ناحق بہایا جانا ایک معمول بن گیا ہے اور یہاں آئے روز اس طرح کے بدقسمتی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دور اندیشی سے کام لیکر جدوجہد کو آگے بڑھائے اور ہر کوئی فیصلہ کرتے وقت اس کے نتائج اور عواقب پر بھی نظر رکھے۔ انہوں نے کہا ” بھارت کے قبضے کے خلاف ایک فیصلہ ک±ن لڑائی لڑنے کے لئے ہمیں مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں آنا ہوگا اور اس کے لئے خارجی عوامل پر بھی نظر رکھنا پڑے گی اور اندرونی سطح پر بھی اپنے لوگوں کی مکمل ذہنی تربیت کرنا ہوگی تاکہ وہ پھر جدوجہد میں کسی طرح کی ا±کتاہٹ کے شکار نہ ہوجائیں“۔ گیلانی نے کہا” ہمیں 2008 اور2010 کی عوامی تحریکوں میں ہوئے تجربات کو بھی مدّنظر رکھنا پڑے گا اور کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت سب سے اہم وقت کا انتخاب ہوتا ہے کہ کب، کہاں اور کیسے اقدام اٹھانا ہے“۔انہوں نے کہا ” ہم سب کی دلی تمنا اور کوشش بھی ہے کہ جلد سے جلد بھارت کے جبری قبضے کا خاتمہ ہو اور ہم آزادی کی فضاو¿ں میں سانس لے سکیں، البتہ بالغ نظر قیادت پر لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے ممکنات پر غوروخوض کرکے ہی فیصلے کرے اور جدوجہد کے طویل ہونے کی صورت میں اس کی بقاء اور جاندار رہنے کی پہلے سے فکر کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…