توشہ خانہ

  منگل‬‮ 19 اپریل‬‮ 2022  |  0:01

گراف (Groff) سوئٹزر لینڈ کی کمپنی ہے‘ ہیڈکوارٹر لوزرن میں ہے اور یہ بادشاہوں‘ شہزادوں اور ملکائوں کے لیے ہیروں اور جواہرات کی سپیشل پراڈکٹس بناتی ہے‘ یہ پراڈکٹس مارکیٹ میں نہیں ملتیں‘ صرف محلات میں جاتی ہیں اور وہیں استعمال ہوتی ہیں‘ گراف نے 2018ء میں سعودی عرب کے ولی عہد کے لیے دو سپیشل گھڑیاں بنائی تھیں‘ عمران خان بطور وزیراعظم جب 18 ستمبر 2018ء کو

سعودی عرب کے پہلے دورے پر گئے توولی عہد نے وزیراعظم کو گراف کی گھڑی‘ دو ہیرے جڑے کف لنکس‘ سونے کا ایک پین اور ایک انگوٹھی بطور تحفہ دی‘ پوری دنیا میں حکمران حکمرانوں کو تحائف دیتے ہیں‘ یہ تحفے عموماً عجائب گھروں میں رکھ دیے جاتے ہیں یا پھر ایوان صدر یا وزیراعظم ہائوس میں سجائے جاتے ہیں ‘ وائیٹ ہائوس اس کی سب سے بڑی مثال ہے وہاں دو دو سو سال پرانے تحفے نمائش کے لیے رکھے ہیں‘ تاہم پاکستان میں روایت ذرا سی مختلف ہے یہاں صدر یا وزیراعظم کو ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے جاتے ہیں‘اب توشہ خانہ کیا ہے؟ توشہ خانہ مغلوں کے دور میں ہندوستان میں بنا تھا‘ اس میں بادشاہ کو ملنے والے تحائف رکھے جاتے تھے‘ بادشاہ اپنے مہمانوں اور درباریوں کو خلعت عطا کرتا تھا‘ یہ خلعت بھی توشہ خانہ میں رکھی جاتی تھی اور وہیں سے منگوا کر مہمانوں کو عنایت کی جاتی تھی‘ توشہ خانہ مغلوں سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں آیا‘ پھر وائسرائے کے پاس آیا اور قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کے پاس آ گیا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی دور میں سرکاری تحائف کو سرکاری ملکیت سمجھا جاتا تھا اور کوئی اہلکار انہیں ذاتی طور پر استعمال نہیں کر سکتا تھا‘ پاکستان میں بھی شروع میں یہی روایت تھی‘ بیوروکریٹس سے لے کر صدر تک تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع ہو جاتے تھے لیکن پھر غالباً ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس رُول میں تبدیلی آ گئی اور توشہ خانہ کے اہلکار تحائف کی قیمت کا تخمینہ لگاتے اور پھر اس قیمت کا 20فیصد خزانے میں جمع کرا کر تحفہ حاصل کرنے والا شخص تحفہ ذاتی استعمال میں لانے لگا لہٰذا ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے اور یہ سہولت اس حد تک جائز ہوتی تھی۔ ہم اب واپس عمران خان کے تحائف کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2018ء میں چار انتہائی قیمتی تحائف دیے اور روایت کے مطابق چیف آف پروٹوکول نے تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دیے‘ توشہ خانہ نے گراف کی گھڑی کا تخمینہ ساڑھے آٹھ کروڑ‘ کف لنکس کی مالیت 56 لاکھ 70 ہزار روپے‘

پین کی قیمت 15 لاکھ روپے اور انگوٹھی کی مالیت 87لاکھ 50 ہزارروپے ڈکلیئر کی‘ چاروں تحائف کی ٹوٹل مالیت دس کروڑ 92لاکھ روپے بنی اور اس کا 20فیصد دو کروڑ دو لاکھ 78 ہزار روپے بنا‘ عمران خان نے یہ رقم خزانے میں جمع کرائی اور چاروں تحائف توشہ خانہ سے لے لیے‘ یہ معاملہ یہاں تک بھی جائز اور قانونی تھا لیکن اس کے بعد سٹوری میں دو ٹوئسٹ آئے اوریہ سکینڈل بن گیا‘

وزیراعظم نے دو کروڑ 2 لاکھ 78 ہزار روپے کی رقم اپنی ٹیکس ریٹرن میں ڈکلیئر نہیں کی تھی‘یہ رقم ان کے اکائونٹس میں سرے سے موجود بھی نہیں تھی لہٰذا سوال پیدا ہوا یہ رقم پھر کہاں سے آئی؟ دوسرا چند ماہ بعد گراف کے دوبئی آفس نے اپنے ہیڈکوارٹر کو مطلع کیا ولی عہد کے لیے بنائی گئی گھڑیوں میں سے ایک فروخت کے لیے ہمارے پاس آئی ہے‘ ہم کیا کریں؟ ہیڈکوارٹر نے ولی عہد کے

سیکرٹری سے رابطہ کیا اور سیکرٹری نے ولی عہد سے پوچھا‘ وہ اس حرکت پر حیران رہ گئے تاہم انہوں نے گھڑی خریدنے کا عندیہ دے دیا اور یوں وہ گھڑی گراف نے 14 کروڑ روپے میںخرید کرولی عہد کو بھجوا دی اور یہ حرکت غیراخلاقی بھی تھی‘ غیرقانونی بھی اور غیر سفارتی بھی ‘یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے‘ گھڑی دوبئی میں کس نے فروخت کی تھی؟ پارٹی کے چند لوگ ذلفی بخاری کو

اس کا ذمہ د ار قرار دیتے ہیں‘ یہ الزام لگاتے ہیں‘ خاتون اول نے گھڑی ذلفی بخاری کو دی اور ذلفی بخاری اسے دوبئی میں فروخت کر آئے‘ میں نے اتوار کو تصدیق کے لیے ذلفی بخاری سے رابطہ کیالیکن ان کا دعویٰ تھا ’’میں نے زندگی میں یہ گھڑی دیکھی اور نہ ہی میں اس معاملے میں انوالو ہوا‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا ’’عمران خان نے اگر توشہ خانہ کی رقم ادا کر دی تھی تو وہ گھڑی کے مالک تھے اور وہ اسے جہاں چاہتے اور جب چاہتے فروخت کرتے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں‘‘۔

عمران خان نے 2018ء سے 2021ء تک غیرملکی سربراہوں سے 58 تحائف حاصل کیے (میرے پاس پوری فہرست موجود ہے) ان کی کل مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ 42 ہزار ایک سو روپے بنتی ہے‘ ان میں رولیکس کی چھ گھڑیاں ‘ سونے اور ہیروں کے لاکٹ سیٹ‘ ائیر رنگز‘ سونے کی انگوٹھیاں اور ہیروں کے بریسلٹ بھی شامل ہیں اور انتہائی مہنگے لیڈیز بیگز بھی‘ خاتون اول کو 20مئی 2021ء کو بھی نیکلس‘ ائیررنگز‘ انگوٹھی اور بریسلیٹ ملا اور توشہ خانہ نے اس کی مالیت 58لاکھ 60ہزار روپے طے کی تھی اور خاتون اول نے رقم جمع کرا کر یہ تحائف لے لیے‘ سوال یہ ہے کیا یہ تحائف عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ملے یاپھر وزیراعظم اور خاتون اول کو اور یہ اگر خاتون اول اور وزیراعظم کو ملے تو پھر ان کا اصل وارث کون ہے؟ یقینا پاکستان لہٰذا یہ کسی بھی صورت حکومت پاکستان کے ہاتھ سے باہر نہیں جانے چاہیے تھے لیکن ہم بفرض محال یہ مان بھی لیں خزانے میں 20فیصد رقم (یہ رقم اب پچاس فیصد ہو چکی ہے) جمع کرا کر وزیراعظم یا صدر ان تحائف کے حق دار بن سکتے ہیں تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے ان تحائف کو مارکیٹ میں بیچنے کی کیا تُک تھی؟ یہ حرکتیں یقینا سفارتی تعلقات کی خرابی کا باعث بنتی ہیں اور شاید یہ وہ حرکت تھی جس کی وجہ سے ہمارے وزیراعظم عمران خان 21 ستمبر 2019ء کو سعودی شاہی جہاز پر امریکا کے دورے پر گئے لیکن رائل فیملی نے واپسی سے پہلے اپنا جہاز واپس منگوا لیا اور وزیراعظم کمرشل فلائیٹ سے پاکستان تشریف لائے‘ کیا یہ دنیا کی پہلی اسلامک نیوکلیئر پاور کے شایان شان تھا اور کیا یہ وہ وقار ہے ہم جس کی بحالی کے دعوے کر رہے ہیں؟۔
عمران خان اس وقت ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے خلاف سڑکوں پر جہاد کر رہے ہیں‘ یہ بے شک کریں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے یہ گورنمنٹ اگر امپورٹڈ ہے تو بھی اس نے آتے ہی کچھ نہ کچھ کرنا شروع کر دیا ہے‘ پانچ دن میں اسلام آباد ائیرپورٹ تک میٹرو بس شروع ہو گئی اور یہ منصوبہ چار سال سے بند پڑا تھا‘ اس پر پندرہ سولہ ارب روپے خرچ ہوئے تھے مگر پچھلی حکومت بس نہیں چلا سکی‘ آپ اگر قومی حکومت تھے تو آپ کم از کم یہ تو کر دیتے‘ یہ حکومت ڈالر کو بھی آٹھ نو روپے نیچے لے آئی اور اس نے شدید مالیاتی دبائو کے باوجود پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھانے سے انکار کر دیا اور یہ اب دیامیر بھاشا اور سی پیک کی رفتار بھی بڑھا رہی ہے اور کراچی کے بند منصوبے بھی شروع کر رہی ہے‘

عمران خان کو ان کاموں سے کس نے روکا تھا؟ یہ کام بھی تو کسی نے کرنے تھے۔ میں دل سے سمجھتا ہوں پنجاب میں حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ نہیں ہونا چاہیے تھا‘ وفاق میں والد اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بیٹا اس کی کوئی جسٹی فکیشن نہیں اور یہ وہ سیاسی غلطی ہے جس کا جواب اس حکومت کو روز دینا پڑے گا لیکن اس کے باوجود میرے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے

حمزہ شہباز خواہ کتنا ہی غلط اور غیرسیاسی فیصلہ کیوں نہ ہو لیکن یہ کم از کم عثمان بزدار سے تو بہتر ہی ہو گا‘ پوری دنیا عمران خان کو سمجھاتی رہی لیکن یہ خواجہ سراء سے اولاد نرینہ کی امید لگا کر بیٹھے رہے‘ عثمان بزدار نے پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیلی کاپٹر استعمال کیا لیکن ساڑھے تین برسوں میں صوبے کا بیڑہ غرق کر دیا‘ ڈی جی خان میں مشہور تھا عثمان بزدار کے علاقے کے

درخت بھی دیہاڑی لگاتے ہیں‘ یہ بھی جب تک کچھ وصول نہ کر لیں یہ راہ گیروں کو راستہ نہیں دیتے‘بزدار کے بعد حمزہ شہباز انتہائی غیرسیاسی فیصلے کے باوجود عثمان بزدار سے بہتر ثابت ہوں گے اور پنجاب کے عوام کی سانس میں سانس آئے گی‘ عمران خان اگر آج سے تین سال پہلے پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ بنا دیتے یا علیم خان کو موقع دے دیتے تو یہ آج جلسوں میں امپورٹڈ حکومت کے طعنے نہ دے رہے ہوتے‘

یہ آج بھی وزیراعظم ہوتے لیکن شاید یہ اس ذہنی کیفیت میں چلے گئے ہیں جس میں انسان خود کو ہرحال میں ٹھیک اور دوسروں کو غلط سمجھتا ہے۔ قائداعظم کے بعد عمران خان دوسرے لیڈر تھے جنہیں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کی اتنی سپورٹ ملی لیکن افسوس انہوں نے ملک کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو انہوں نے گراف کی گھڑی کے ساتھ کیا تھا لہٰذا آج اگر ان سے گھڑی کے بارے میں پوچھا جائے تو

یہ مسکرا کر کہتے ہیں گھڑی میری تھی‘ میں نے بیچ دی اور ملک کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال ہوتا ہے‘ میرا ملک تھا میں اسے عثمان بزدار کے حوالے کرتا یا محمود خان کے آپ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں ؟ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے کیا اس آرگومنٹ کا کوئی جواب ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو یہ جواب کون دے گا؟میرا خیال ہے قوم یوتھ کے علاوہ اس منطق کو کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ بیان کر سکتا ہے۔



زیرو پوائنٹ

گھوڑا اور قبر

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎

میرا سوال سن کر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف دیکھنے لگے‘ میں نے مسکرا کر سوال دہرا دیا‘ وہ غصے سے بولے ’’بھاڑ میں جائے دنیا‘ مجھے کیا لوگ آٹھ ارب ہوں یا دس ارب‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا’’ آپ کی بات سو فیصد درست ہے‘ ہمیں اس سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہمارے لیے صرف اپنی ....مزید پڑھئے‎