اکی گائے

  اتوار‬‮ 27 دسمبر‬‮ 2020  |  0:02

اوکی ناوا (Okinawa) جاپان کے 160 چھوٹے چھوٹے جزائر کی ٹوکری ہے‘ یہ پیسفک اوشن میں تائیوان اور چین کے قریب لیکن ٹوکیو سے 17سوکلو میٹر کے فاصلے پر ہیں‘ دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند بزرگ ان جزائر میں آباد ہیں‘ بزرگ سو سال سے زیادہ عمر کے ہیں اور یہ اس بڑھاپے میں بھی باقاعدہ جاگنگ کرتے ہیں‘ سائیکل چلاتے ہیں اور ڈانس کرتے ہیں جب کہ جزائر کیدو تہائی آبادی ستر سال سے اوپر ہے اور یہ لوگ جوان سمجھے جاتے ہیں‘ اوکی ناوا کے بارے میں کہا جاتا ہے زندگی یہاں پہنچ کرٹھہر گئی ہے یا یہ وہ سرزمین ہے جس میں موت داخل نہیں ہو سکتی یا اگر آپ زندگی کو سمجھنا چاہتے ہیں تو پھر اوکی ناوا جائیں آپ کو حیات کی پوری

فلاسفی سمجھ آجائے گی‘ یہ بھی کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے زندگی اربوں انسانوں کو دی لیکن زندگی کو گزارنے کا فن صرف اوکی ناوا کے لوگوں کو دیا‘ یہ صحت مند لوگ دہائیوں سے ریسرچ کا موضوع ہیں‘ ان پر کتابیں بھی لکھی گئیں‘ فلمیں بھی بنیں‘ ان کی خوراک اور ریسپیز کے کورس بھی ڈیزائن ہوئے اور جاپان کی درجنوں یونیورسٹیوں نے ہزاروں لوگوں کو اوکی ناوا کے لائف سٹائل کی ٹریننگ بھی دی لیکن ان لوگوں کا بھید بھید ہی رہا‘ دنیا ان لوگوں کا فن نہیں سیکھ سکی تاہم اکی گائے (Ikigai) بڑی حد تک اوکی ناوین لائف سٹائل کی وضاحت کرتا ہے‘ اب سوال یہ ہے اکی گائے کیا چیز ہے؟ یہ زندگی گزارنے کا قدیم جاپانی ماڈل ہے‘ جاپانی زبان میں اکی (Iki) کا مطلب زندگی اور گائے (Gai) کے معانی اوقات‘ قیمت یا ویلیو ہوتی ہے‘ یہ دونوں لفظ ملیں تو ان کا مطلب ’’زندگی کی وجہ‘‘ بن جاتا ہے‘ اکی گائے کے ایکسپرٹ عملی زندگی کو چار دائروں میں تقسیم کرتے ہیں‘ یہ چاروں دائرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر آگے بڑھتے ہیں‘ پہلے دائرے میں وہ چیزیں آتی ہیں جنہیں ہم دل سے کرنا چاہتے ہیں‘دوسرے دائرے میں وہ فن آتے ہیں ہم جن کے ماہر ہوتے ہیں‘ تیسرے دائرے میں وہ کام آتے ہیں جن سے ہم پیسہ کماتے ہیں اور چوتھے دائرے میں وہ چیزیں آتی ہیں جن کی دنیا ہم سے توقع کرتی ہے‘ یہ لوگ سمجھتے ہیں پہلا اور دوسرا دائرہ مل کر جذبہ (Passion) بناتا ہے‘ دوسرا اور تیسرا مل کر روزگار (Profession)‘ تیسرا اور چوتھا مل کر ہنر (Vocation) اور چوتھا اور پہلا مل کرمقصد (Mission) بنتا ہے اور انسان جب تک ان چاروں دائروں کو جوڑ نہیں لیتا یہ اس وقت تک مطمئن اور کام یاب زندگی نہیں گزار سکتا اور ان لوگوں کا خیال ہے اوکی ناوا کے لوگ اکی گائے کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں چناں چہ ان کی عمریں بھی لمبی ہیں اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ مطمئن اور خوش بھی ہیں‘ اکی گائے کے ایکسپرٹ کہتے ہیں یہ لوگ چاروں دائرے مکمل کرنے کے بعدچھ کام کرتے ہیں‘ یہ ان کی روٹین ہوتے ہیں ‘ یہ روٹین انتقال تک ان کی زندگی کا حصہ رہتی ہے اور یہ چھ کام اس وقت کی ریسرچ کے مطابق کام یاب‘ مطمئن اور خوش زندگی گزارنے کا شان دار ترین طریقہ ہیں۔اوکی ناوا کے لوگوں کی پہلی فلاسفی ’’اپنے آپ کو آہستہ کر لیں اور لمحہ موجود میں زندہ رہیں‘‘ ہے (Slow down and be present) یہ سمجھتے ہیں موبائل فون‘ انٹرنیٹ‘ بلٹ ٹرینز‘ دو سو کلو میٹر فیگھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی گاڑیاں اور ضرورت سے زیادہ علم انسان کے سکون‘ اطمینان اور خوشی کو نگل رہا ہے چناں چہ انسان کو اپنے آپ کو آہستہ کر لینا چاہیے‘ آپ دنیا کے ساتھ دوڑ نہ لگائیں‘ یہ دوڑ آپ کو تھکاوٹ اور بیماری کے سوا کچھ نہیں دے گی‘ آپ جہاں ہیں اور جو ہیں آپ وہ رہیں‘ یہ بہت بڑی بدنصیبی ہوتی ہے آپ چائے یا کافی پی رہے ہیں‘ گارڈن میں بیٹھے ہیں یا آپ کے سامنے آپ کا کوئیدوست بیٹھا ہے لیکن آپ اس کی گفتگو سننے یا پھولوں کے رنگ اور خوشبو محسوس کرنے یا کافی یا چائے کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کے بجائے آپ اور آپ کا دماغ کہیں دور بھٹک رہا ہے‘ آپ ماضی میں چلے گئے ہیں یا آپ مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھا رہے ہیں یا پھر آپ موبائل فون کے ذریعے دور بیٹھے لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں‘ یہ صورت حال انسان کی قوت مدافعت کو کم زور کر دیتی ہےچناں چہ آپ کوشش کریں آپ غیر ضروری دوڑ میں نہ پڑیں‘ یہ دوڑ آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی‘ اوکی ناوا کے لوگوں کا دوسرا معمول فطرت کے ساتھ تعلق ہے‘ یہ نیچر سے ری کونیکٹ (Reconnect) کرتے رہتے ہیں‘ روزانہ باغوں میں جاتے ہیں‘ ندیوں اور نالوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں‘ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ واک کرتے ہیں اور درختوں اور پودوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں اللہ نے انسان کی توانائیاں فطرت میں رکھ دی ہیں‘ ہم جب فطرت کے ساتھ کنیکٹ کرتے ہیں تو ہمارے جسم میںبجلیاں بھر جاتی ہیں اور ہم زیادہ مطمئن اور خوش ہو جاتے ہیں اور یہ جنگل کو غسل خانہ سمجھتے ہیں لہٰذا یہ درختوں میں گھومنے پھرنے کو فاریسٹ باتھ کہتے ہیں‘ یہ روزانہ زمین پر ننگے پائوں ضرور پھرتے ہیں‘ یہ کہتے ہیں گھاس پر ننگے پائوں چلنے سے انسان کو توانائی ملتی ہے‘ ان کا تیسرا بھید ’’اوکی ناوا فوڈ‘‘ ہے‘ یہ صدیوں سے مقامی خوراک کھا رہے ہیں‘ ان کی خوراک میں تازہ سبزیاں‘دالیں اور فروٹس ہوتے ہیں‘ یہ ناشتے میں فروٹس اور سبزیوں کی ’’رین بو‘‘ بناتے ہیںاور روزانہ رین بو کے ہر رنگ کا پھل یا سبزی ضرور کھاتے ہیں‘ ہفتے میں تین دن مچھلی کھاتے ہیں اور اپنی 80 فیصد خوراک سہ پہر تک کھا لیتے ہیں‘ سورج غروب ہونے کے بعد کھانا پینا بند کر دیتے ہیں‘ بازار کا کھانا یا جنک فوڈ نہیں لیتے‘ سبز چائے پیتے ہیں‘ کافی اور چائے سے بھی پرہیز کرتے ہیں‘مقامی پھل اور مصالحے استعمال کرتے ہیں‘ اپنی سبزیاں خود اگاتے ہیں‘ روزانہ صرف 19 سو کیلوریز کا کھانا کھاتے ہیں‘ آدھے سے زیادہ پیٹ نہیں بھرتے اور پانی زیادہ پیتے ہیں لیکن شام کے بعد یہ بھی بند کر دیتے ہیں‘ ان کا چوتھا راز جسم کی حرکت ہے‘ یہ ’’موو یور باڈی‘‘ کے قائل ہیں‘ ہر وقت اپنے جسم کو حرکت میں رکھتے ہیں‘ چل کر مارکیٹ جائیں گے‘ سیڑھیاں چڑھیں گے‘ یہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد کوئی نہ کوئی فن‘ کوئی نہ کوئی ہنر سیکھتے ہیں اور باقی زندگی اس کے لیے وقف کر دیتے ہیں‘اوکی ناوا کے زیادہ تر بزرگ کیلے کے درخت جیسے ایک درخت کے ریشے کاٹ کر ان کا دھاگا بناتے ہیں‘ پھر اس دھاگے سے کپڑا بنتے ہیں اور اس کپڑے کا لباس تیار کرتے ہیں‘ یہ دنیا کے قیمتی ترین لباس سمجھے جاتے ہیں‘ یورپ میں اس کپڑے کی شرٹ 18 ہزار یورو میں فروخت ہوتی ہے‘ جاپانی مائیاں آج بھی سلائیوں سے سویٹر اور ٹوپیاں سیتی ہیں‘ یہ ریستوران اور کافی شاپس بھی چلاتی ہیں اور ان میں خود کام کرتی ہیں‘ کھانا بھی خود بناتی ہیں‘ خود سرو کرتی ہیں اور برتن بھی خود دھوتی ہیں‘یہ لوگ مرنے تک رقص بھی کرتے رہتے ہیں‘ آپ کو اوکی ناوا میں اکثر بزرگ ناچتے تھرکتے نظر آتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں آپ اگر پتھر نہیں ہیں تو پھر آپ کو اپنا جسم حرکت میں رکھنا چاہیے‘ اوکی ناوا کے لوگوں کا پانچواں راز شکر اور شکریہ ہے‘ یہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کا جھک کر گرم جوشی سے شکریہ ادا کریں گے‘ میں بھی اپنے پنجابی بھائیوں کیطرح دوسروں کا شکریہ ادا نہیں کیا کرتا تھا لیکن پھر میری زندگی میں ایک جاپانی مائی آئی اور یہ مجھے شکریہ اور شکر کی ایسی لت لگا گئی کہ میں آج اس کے بغیر سروائیو ہی نہیں کر سکتا‘ وہ 92 سال کی جاپانی مائی تھی‘ اوساکا شہر سے تعلق رکھتی تھی‘ میں نے 2005ء میں اٹلی کے قدیم شہر پمپئی کا ٹور لیا‘ وہ اس ٹور میں شامل تھی‘ اس کا کہنا تھا میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے سفر کرتی ہوں‘اللہ نے مجھے صحت بھی دی اور رقم بھی دی چناں چہ میں یہ خرچ کر کے اس کا شکر ادا کرتی ہوں‘ میں نے کھنڈرات میں اس کی وہیل چیئر کو پانچ سات منٹ پش دے دیا تھا‘ وہ اس چھوٹی سی فیور پر دو دن میرا شکریہ ادا کرتی رہی‘ وہ ٹور کے ہر شخص کو یہ واقعہ سناتی تھی اور پورے جوش کے ساتھ مجھے تھینک یو کہتی تھی‘ مجھے اس وقت شکر اور شکریہ کی قدر اور قیمت کا اندازہ ہوا‘ اوکی ناوا کے تمام لوگ شکر اورشکریہ کو عبادت سمجھتے ہیں چناں چہ یہ صحت مند بھی ہیں اور طویل العمر بھی اور ان کی آخری عادت ’’اکی گائے‘‘ ہے‘ یہ لوگ اپنی زندگی اکی گائے کے مطابق گزارتے ہیں‘ وہ کام کرتے ہیں جو دل کو لگتا ہے‘ کام باقاعدہ سیکھتے ہیں‘ آخری سانس تک پیسہ بھی کماتے ہیں اور دنیا کے لیے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں‘ڈیٹا ثابت کرتا ہے آخری سانس تک پیسہ کمانے والے لوگ بھی لمبی عمر پاتے ہیں۔آپ بھی یہ کر کے دیکھیں ‘آپ بھی زندگی کے اصل ذائقے سے متعارف ہو جائیں گے‘ ایک بار کر کے دیکھیں اگر مزہ نہ آئے تو پھر دوبارہ چکڑ چھولوں میں چھلانگ لگا دیجیے گا اور کڑاہی گوشت کھا کھا کر خودکشی کر لیجیے گا لیکن ایک بار !جی ہاں ایک بار آپ کوبھی اکی گائے ضرور ٹرائی کرنا چاہیے‘ ہو سکتا ہے یہ آپ کی زندگی کو بھی اوکی ناوا کے لوگوں جیسا بنا دے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎