اب پولیس کی باری آ گئی

  جمعرات‬‮ 3 اکتوبر‬‮ 2019  |  0:01

آپ نے اس سکھ کا لطیفہ سنا ہوگا جس کا پاﺅں کےلے کے چھلکے پر آیا‘ وہ گرا اور اس کا بازو ٹوٹ گیا‘ وہ اس کے بعد جہاں بھی کیلے کا چھلکا دیکھتا تھا وہ بازو پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا ”لو جی ایک بار پھر پھسلنے کا وقت آ گیا“ یہ حکومت بھی بدقسمتی سے ہر کیلے کے چھلکے پر پاﺅں رکھنے اور پھسلنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی‘

ملک میں پہلے ہی ہر قسم کی ہاہا کار مچی ہوئی ہے‘ بحران کے اوپر بحران رکھے ہیں اور کوئی بحران کسی سے سمیٹا نہیں جا رہا اور نہلے پر دہلا عمران خان نے پنجاب پولیس کو ایک بار پھر ڈی ایم جی کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ حکومت اگر اس چھلکے


سے بھی پھسل گئی تو ہم ایک بار پھر ایسی کنفیوژن اور بحران کا شکار ہو جائیں گے جس میں پولیس کے رہے سہے اعصاب بھی جواب دے جائیں گے اور ملک کی تاریخ میںپہلی بار کسی صوبے کی ساری پولیس ہڑتال پر چلی جائے گی اور تھانوں کا عملہ سڑکوں پر دھرنا دے کر بیٹھ جائے گا اور پوری دنیا تماشا دیکھے گی‘ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے؟ میں اس طرف آنے سے پہلے ملک میں پولیس کے تین کام یاب تجربات بتاﺅں گا‘ یہ تجربے اس قدر کام یاب ہیں کہ ہمیں یقین نہیں آتا یہ بھی پاکستان کی پولیس ہے اور یہ بھی ہم نے بنائی ہے۔حکومت نے 1997ءمیں موٹر وے پولیس کی بنیاد رکھی‘ پنجاب پولیس کو فالتو اہل کار موٹروے پولیس میں ”جمع“ کرانے کا حکم دیا گیا‘ آئی جی نے نالائق اور سست اہل کار اکھٹے کر کے وفاق کے حوالے کر دیے‘ موٹروے پولیس بنی اور اس نے کمال کر دیا‘ کمال کی دو وجوہات تھیں‘ حکومت نے اسے مکمل اختیارات دیے‘ یہ لوگ وزیراعظم تک کی گاڑی روک کر چالان کر دیتے ہیں اور کوئی ان سے اس گستاخی کی وجہ نہیں پوچھتا‘ دوسرا موٹروے پولیس کے ”ڈیوٹی آورز“ کم ہیں اور تنخواہ زیادہ چناں چہ یہ پولیس کے بودار پانیوں میں خوشبو کا جزیرہ ثابت ہوئی اور ہم پوری دنیا میں موٹروے پولیس کی مثال دیتے ہیں۔

پولیس کا دوسرا ادارہ کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ہے‘ سی ٹی ڈی کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا‘ حکومت نے سی ٹی ڈی کے اہل کاروں اور افسروں کو سہولتیں بھی دیں‘ اختیارات بھی اور ریوارڈ بھی چناں چہ سی ٹی ڈی نے چند سالوںمیں نہ صرف ملک سے دہشت گردی ختم کر دی بلکہ یہ اب دنیا بھر کے ملکوں کو سپورٹ اور ٹریننگ بھی دیتی ہے‘ ہم ایف اے ٹی ایف میں دھنسے ہوئے ہیں‘ حکومت ایف اے ٹی ایف کی ہر میٹنگ میں سی ٹی ڈی کے اعدادوشمار دیتی ہے اور عالمی ادارے اس ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔

کور کمانڈرز اجلاس میں بھی پولیس کے اس ادارے کی تعریف کی جاتی ہے اور تیسری مثال کے پی کے پولیس ہے‘ عمران خان نے2013ءمیں آئی جی کے پی کے کو مکمل اختیارات دیے‘ پولیس آرڈیننس 2017ءپاس کرایااور پولیس ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر سیاسی مداخلت سے پاک کر دیا‘ آئی جی ڈی آئی جی سے لے کر تھانے دار تک بدل سکتا تھا اور حکومت کا کوئی عہدیدار اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا تھا چناں چہپھر صوبے میں تبدیلی آئی اور پورے ملک نے کے پی کے پولیس کی تعریف کی۔ یہ تین مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں‘ عمران خان پوری زندگی پولیس کی خود مختاری اور آزادی کا نعرہ لگاتے رہے‘

یہ اگست 2018ءمیں اقتدار میں آئے تو قوم کو توقع تھی یہ پولیس کے ان ماڈلز میں سے کوئی ایک ماڈل لیں گے اور پورے ملک میں نافذ کر دیں گے لیکن آپ بدقسمتی دیکھیے عمران خان نے اچانک پولیس کو واپس ڈی ایم جی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ فیصلہ ابھی یوٹرن کے فیز سے گزر رہا ہے لیکن یہ اگر خدانخواستہ نافذ ہو گیا تو ملک کے بحران میں خوف ناک اضافہ ہو جائے گا۔ ہم اب پولیس کے اصل ایشو کی طرف آتے ہیں۔انگریز نے برصغیر میں 1861ءمیں پولیس ایکٹ متعارف کرایاتھا‘

پولیس اس وقت ڈی ایم جی کے ماتحت ہوتی تھی‘ انگریز کا ایس پی ڈپٹی کمشنرکی نگرانی میں کام کرتا تھا‘اس کی وجہ پولیس کی فلاسفی تھی‘ انگریز نے گورنمنٹ کے لیے پولیس بنائی تھی‘ پولیس میں مقامی لوگ بھی بھرتی کیے جاتے تھے‘ انگریز چاہتا تھا یہ مقامی لوگ گوروں کے ماتحت رہیں‘ ڈی ایم جی میں اس وقت صرف اور صرف گورے افسر ہوتے تھے چناں چہ مقامی پولیس گورے ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کام کرتی رہی۔ یہ سسٹم چلتا رہا‘ انگریز ڈپٹی کمشنر پورے ضلع کی پولیس کو کنٹرول کرتا تھا لیکن پھر جوں جوں وقت تبدیل ہوتا رہا اور پولیس فار دی گورنمنٹ کافلسفہ پولیس فار دی پبلک میں بدلتا گیا تو پولیس کو خودمختاری ملتی چلی گئی‘

1947ءمیں ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھارت نے پولیس کا سسٹم بدل دیا‘پولیس وہاں خود مختار ہو گئی مگر پاکستان میں یہ بدقسمتی سے 2002ءتک ڈپٹی کمشنر کے ماتحت رہی اور حکومتیں اضلاع میں اپنی مرضی کے ڈی سی لگا کر پورے پورے ضلع کو کنٹرول کرتی رہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے2002ءمیں یہ سسٹم بدل دیا‘ پولیس آرڈر 2002ءآیا اور پولیس کو ڈی سی کی ماتحتی سے نکال کر آزاد کر دیا گیا‘ پولیس آرڈر بہت اچھا تھا لیکن یہ بھی بدقسمتی سے مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکا‘

حکومت نے پولیس کی نگرانی کے لیے آزاد اور خودمختار کمیٹیاں بنائی تھیں‘ پولیس نے بلدیاتی اداروں کے ماتحت بھی ہونا تھا اور یہ آزادی ہماری سیاسی لاٹ کو سوٹ نہیں کرتی تھی لہٰذا ق لیگ کا دور آیا اور عوامی نمائندوں نے جنرل مشرف کا پولیس ایکٹ تباہ کر دیا تاہم یہ اس کے باوجود گوروں کے دور سے بہتر تھا اور پھر 2018ءمیں عمران خان آگئے۔ قوم کو عمران خان پر بہت اعتماد تھا‘ ہمارا خیال تھا عمران خان حکومت میں آ کر پولیس کو نیویارک پولیس جیسی خودمختاری دے دیں گے‘

پولیس صدر اوباما اور صدر بش کے خاندان کے لوگوں کو بھی گرفتار کر لے گی اور وائیٹ ہاﺅس ہاتھ ملتا رہ جائے گا مگر ہمارے کپتان نے آگے جانے کی بجائے وقت کے پہیے کو الٹا گھمانا شروع کر دیا‘ یہ جمہوری لیڈر بنتے بنتے وائسرائے بن گئے اور نظام کو 2020ءمیں لے جانے کی بجائے 1861ءمیں لے گئے۔ یہ درست ہے ہماری پولیس میں لاکھ خامیاں ہیں‘ پنجاب پولیس کے ہاتھوں تین ماہ میںپولیس تشدد کے 950 واقعات پیش آئے‘ ان میںسات ہلاکتیں بھی ہوئیں‘ پولیس نے ذاتی ٹارچر سیل بھی بنا رکھے ہیں اور آپ کسی تھانے میں چلے جائیں‘

آپ کو وہاں رشوت‘ دہشت اور لاقانونیت کے انبار بھی ملیں گے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں آپ اکیسویں صدی سے انیسویں صدی میں چھلانگ لگا دیں‘ آپ پورے سسٹم کو واپس 861ءمیں لے جائیں‘ یہ بھی درست ہے ڈی ایم جی ملک کی سپیریئر سروس ہے۔ ملک کی کریم ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں جاتی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے یہ سروس ساٹھ سترسال پہلے تک کارآمد تھی لیکن آج اسپیشلائزیشن کی دنیا ہے‘

ہم آج اپنے گردے کا علاج بھی ہارٹ اسپیشلسٹ سے نہیں کراتے‘ ہم لیور کے اسپیشلسٹ کو کان نہیں دکھاتے‘ کان کے لیے کان‘ دانت کے لیے دانت اور دل کے لیے دل کے ماہر کے پاس جاتے ہیں مگر جب ملک چلانے کے سسٹم کی باری آتی ہے تو ہم صرف ایک سروس کو فوقیت دے دیتے ہیں اور وہ سروس ہے ڈی ایم جی‘ یہ زیادتی بھی ہے اور حماقت بھی۔ ڈی ایم جی کی کارکردگی یہ ہے یہ ڈینگی کنٹرول نہیں کر سکی‘ ملک میں تعلیم کا حال بھی آپ کے سامنے ہے‘ آپ کو پورے ملک میں ایک بھی ایسا ڈی سی نہیں ملے گا

جس کے اپنے بچے سرکاری سکول یا کالج میں پڑھتے ہوں‘ ضلع کا انفرا سٹرکچر بھی ان کے پاس ہے مگر آپ کسی ضلعی ہیڈکوارٹر میں چلے جائیں آپ کو ڈی سی کے دفتر اور رہائش گاہ کے سامنے سڑک ٹوٹی ہوئی ملے گی‘ یہ لوگ اگر آج تک یہ مسئلے حل نہیں کر سکے تو یہ پولیس کو کیسے ٹھیک کر لیں گے؟۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 80فیصد مقدمے اور چالان ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی نالائقی کا نتیجہ ہوتے ہیں‘ زمین کے دو دو مرلوں کے لیے پانچ پانچ لوگ قتل ہو جاتے ہیں اور ڈی ایم جی سروس آج تک ریونیو کا پھڈا ختم نہیں کر سکی‘ مجھے صرف سیال کوٹ سے اچھی خبریں ملیں‘

سیال کوٹ کے ڈپٹی کمشنر بلال حیدر نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی‘ ریونیو کی ایپلی کیشن بنائی‘ ضلع کے تمام ریونیو ملازموں کا واٹس ایپ گروپ بنایا اور ریونیو کا ڈیڑھ سو سال پرانا ایشو ختم کر دیا یوں سیال کوٹ ملک کا واحد ضلع ہے جہاں ریونیو کا کوئی پھڈا نہیں۔ بلال حیدر ضلع کے باقی ایشوز بھی موبائل ایپلی کیشنز اور موبائل فون پر لے گئے ہیں‘ملک کا صرف یہ ڈسٹرکٹ ای گورنمنٹ کا شان دار ماڈل ہے‘باقی سب کے حالات تشویش ناک ہیں‘ کاش حکومت یہ ماڈل لے لے اور اسے ملک کے باقی 153اضلاع میں بھی نافذ کر دے تاہم یہ ایک شخص کی انفرادی کوششوں کا نتیجہ ہے‘

یہ بلال حیدر کا کارنامہ ہے لیکن آپ باقی اضلاع کی صورت حال دیکھیے‘پورے پورے ضلع کی حالت خراب ہے اور آپ اگر اس خراب صورت حال میں پولیس کا بوجھ بھی ڈی سی کے کندھے پر لاد دیں گے تو سسٹم بھی چوک ہو جائے گا اور پولیس بھی نافرمانی شروع کر دے گی۔ چناں چہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ پورے انجن کوبار بار کھولنے کی بجائے پولیس کی تین کام یاب ترین مثالوں میں سے کوئی ایک مثال لے لیں اور یہ ماڈل پنجاب میں نافذ کر دیں‘ حالات ٹھیک ہو جائیں گے‘

پنجاب پولیس کا اصل ایشو فورس ہے‘ آپ کسی دن پنجاب میں فوج کی کل کورز اور جوانوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ پنجاب کی ہر کور کا سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوگا جب کہ ہم نے پنجاب پولیس کی سوا دو لاکھ جوانوں کی نفری ایک آئی جی کی ماتحتی میں دے رکھی ہے۔ یہ آئی جی اگر سپرمین‘ اگر روبوٹ بھی ہو تو بھی یہ پورے صوبے کا لاءاینڈ آرڈر نہیں سنبھال سکے گا چناں چہ آپ حالات دیکھ لیجیے‘ حکومت کو چاہیے یہ پنجاب پولیس کو تین حصوں میں تقسیم کر دے یا پھر ڈی آئی جیز کو ڈویژن کا آئی جی بنا دے اور یہ لوگ سسٹم چلائیں‘ آپ پولیس پر نگرانی کا آزاد نظام بھی بنا دیں‘ شہریوں کی کمیٹیاں بنائیں‘

یہ کمیٹیاں پولیس کے خلاف شکایات سنیں اور آپ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کو موٹروے پولیس جیسی سہولتیں اور آزادیاں بھی دے دیں۔ ملک کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے ورنہ دوسری صورت میں حکومت ایک بار پھر کیلے کے چھلکے سے پھسلے گی اور کولہے کی ہڈی تڑوا بیٹھے گی‘ یہ مزید بحران پیدا کرلے گی‘ وقت دریا کی طرح ہوتا ہے‘ دریاﺅں کا پانی واپس نہیں آیا کرتا اور جو شخص پانیوں کو واپس لانے کی کوشش کرتا ہے وہ دریاﺅں میں ڈوب کر مر جاتا ہے لہٰذا حکومت کم از کم یہ حماقت بند کر دے‘ ملک میں پہلے کون سی شہد اور دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں اور صرف یہ کسر بچی تھی۔