اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش دعوے کی حکام نے تردید کردی۔
حرمین شریفین کے حکام کے مطابق مسجد الحرام سے کسی خودکش بمبار کو گرفتار نہیں کیا گیا، سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات حقائق کے برعکس ہیں۔حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مسجد الحرام میں ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا تھا جو مبینہ طور پر زائرین کے لیے خوف و ہراس کا باعث بن رہا تھا اور انہیں ہراساں کر رہا تھا۔گرفتاری کے بعد متعلقہ شخص کے خلاف ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے بعد اسے مزید کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔
View this post on Instagram
حکام نے واضح کیا کہ واقعے کا تعلق کسی خودکش بمبار کی گرفتاری سے نہیں بلکہ مسجد الحرام میں ایک شخص کی جانب سے خوف پھیلانے اور زائرین کو ہراساں کرنے کے معاملے سے تھا۔
NEWS: Security authorities in Masjid Al Haram arrested a person for harassing passersby and causing fear and panic among them.
The individual was dealt with immediately, the necessary legal procedures were taken against him, and he was referred to the Public Prosecution.
Authorities also clarified that circulating claims alleging that a suicide bomber had been apprehended are false, stressing the importance of relying on official sources for accurate information.
—@security_gov
— Inside the Haramain (@insharifain) October 2, 2026



















































