احمدآباد(این این آئی)ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس کانسٹیبل بابو بھائی پرجاپتی کی زندگی کی کہانی نے سب کو آبدیدہ کر دیا۔
بھارت کی ریاست گجرات میں محض 20روپے رشوت کے الزام میں 30سال تک قانونی جنگ لڑنے والے کانسٹیبل عدالت سے باعزت بری ہونے کے اگلے ہی روز چل بسے۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق، گجرات ہائی کورٹ نے 4فروری کو احمد آباد کے ویزلپور سے تعلق رکھنے والے کانسٹیبل بابو بھائی پرجاپتی کو کرپشن کے الزامات سے بری کر دیا تھا۔عدالتی فیصلے کے فورا بعد بابو بھائی اپنے وکیل نتن گاندھی کے دفتر گئے اور جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ میری زندگی پر لگا کلنک مٹ گیا ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ مجھے نجات مل جائے۔وکیل کے دفتر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں نے ان کے یہ آخری کلمات ریکارڈ کر لیے۔ بریت کی خوشی منانے کے بعد جب وہ گھر پہنچے تو اگلے ہی روز ان کی قدرتی وجوہات کی بنا پر موت واقع ہو گئی۔یہ معاملہ 1996میں شروع ہوا تھا جب ان پر 20روپے رشوت لینے کا الزام لگا۔ 2004میں نچلی عدالت نے انہیں 4سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے انہوں نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
تین دہائیوں پر محیط اس طویل جدوجہد کے بعد آخرکار انہیں انصاف تو ملا، لیکن وہ اپنی عزتِ نفس کی بحالی کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے۔



















































