جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیری شہری کی ہلاکت پر پردہ ڈالتے ہوئے بھارتی صحافیوں کی فون کال لیک

datetime 30  اپریل‬‮  2023 |

سری نگر(این این آئی)مضبوضہ کشمیر کے علاقے پونچھ میں بھارتی فوج و پولیس کے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے انڈین صحافی بھی حقائق کو مسخ کرنے لگے، کشمیری شہری کی ہلاکت کے معاملے پر بھارتی صحافیوں کی فون کال لیک ہوگئی۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق کال میں بھارتی صحافی منیش شرما کو اپنے ماتحت کو حقائق مسخ کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاقے پونچھ میں بھارتی فوج کی گاڑی جلنے کے بعد بھارتی فوج و پولیس کی جانب سے مسلمانوں کی گرفتاریاں اور انھیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔اسی تناظر میں انڈین فوج و پولیس کا ظلم و بربریت سہنے کے بعد پونچھ کے رہائشی مختار حسین شاہ نے 26 اپریل کو خودکشی کر لی تھی جس کے بعد سے پونچھ میں بھارتی فوج اور پولیس کے خلاف وقفے وقفے سے مظاہرے بھی جاری ہیں جبکہ مختارحسین کے اہل خانہ اور بھائی نے یہ کہتے ہوئے مجسڑیٹ کی انکوائری رپورٹ کو بھی رد کر دیا کہ مختار حسین شاہ کے جسم پر تشدد کے واضع نشانات تھے۔منیش شرما نامی صحافی جھوٹ گڑھتا ہے کہ مختار حسین کو 21 اپریل کو گرفتار کیا گیا کہاں رکھا گیا، یہ لکھنا پڑے گا ایک دن تھانے میں رکھنے کے بعد 22 اپریل کو چھوڑ دیا گیا، پھر کہتا ہے کہ مختار حسین کو 26 اپریل کو بلایا گیا لیکن وہ اس سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ کال کے آخر میں صحافی کو یہ کہتے بھی سنا جاسکتا ہے یہ ایسا لکھنا پڑے گا کیونکہ وکیل کام کریں گے پھر کہتا ہے کہ اچھا چلو ٹھیک ہے جانے دو اب۔پونچھ میں مختار حسین کی وفات کے بعد مظاہرے وقفے وقفے سے جاری ہیں اور اب بھارتی صحافیوں کی فون کال نے بھی سنگین واقعے کے متعلق حقائق کو مسخ کرنے کی حقیقت کو اشکار کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…