جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی ڈھول پرفارمنس برطانیہ کے تعلیمی نصاب میں شامل کر لیا گیا

datetime 29  مارچ‬‮  2021 |

لندن (این این آئی)برطانوی ریاست انگلینڈ نے میوزیکل تعلیم کیلئے نئے کورسز اور نصاب میں پاکستان اور بھارت سمیت درجنوں ممالک کی موسیقی کو شامل کرلیا۔برطانوی حکومت کے مطابق انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے 26 مارچ کو تعلیمی اداروں میں موسیقی کی تعلیم سے متعلق نیا نصاب جاری کیا، جس میں پاکستان، انڈونیشیا، برازیل، بھارت، اسرائیل، روس، جاپان، مشرق وسطیٰ، نائیجیریا

اور زمبابوے سمیت درجنوں ممالک کی موسیقی کو شامل کیا گیا۔موسیقی کے جاری نئے نصاب میں انگلینڈ کی ہی میوزیکل تنظیم دی ڈرم فائونڈیشن کے ارکان کے پاکستانی موسیقار کی ڈھول کی موسیقی کو نصاب کا حصہ بنایا ہے۔حکومتی ویب سائٹ کے مطابق ڈھول فائونڈیشن میں شامل پاکستانی ڈھول کو بھی نئے میوزیکل تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔پاکستان کے علاوہ بھارت، برازیل، اسرائیل اور انڈونیشیا کی موسیقی کو بھی نئے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے اور مذکورہ نصاب مختلف سطح کی تعلیم کے دوران پڑھایا جائیگا۔نصاب میں شامل موسیقی اور گانوں کو نہ صرف تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو سنایا اور سکھایا جائے گا بلکہ انہیں ایسی ہی موسیقی تیار کرنے کی ترغیب بھی دی جائے گی۔مذکورہ نصاب کا مقصد موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو یہ سمجھانا ہے کہ دنیا کے کس خطے اور ملک میں کس طرح کی موسیقی کو روایتی حیثیت حاصل ہے اسی سلسلے میں انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے بھارتی گانوں کو بھی موسیقی کے نئے نصاب کا حصہ بنایا ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے 2011 میں ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلم ’دبنگ‘ کے آئٹم گانے کو بھی نصاب میں شامل کیا ہے۔انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے بولی وڈ کے معروف گانے ’منی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے‘ کو بھی شامل کیا ہے۔ساتھ ہی انگلینڈ کے محکمہ تعلیم نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کے اے آر رحمن کے گانے ’جے ہو‘ سمیت دیگر دو بھارتی گانوں کو بھی شامل کیا ہے۔دیگر بھارتی گانوں میں ’انڈین سمر اور سہیلی رے‘ شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…