جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

کروناکی وجہ سے دنیا کے100بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں 400ارب ڈالر کی کمی، سب سے زیادہ 30ارب ڈالرکون گنوا بیٹھے؟رپورٹ میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی )کرونا وائرس کے طوفان نے عالمی معیشت کے منظر میں ہر خشک و تر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وبا کے بحران کے بیچ صرف دہ ماہ کے عرصے میں دنیا کے 100 بڑے ارب پتی افراد کی دولت میں تقریبا 400 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔

کرونا وائرس کی پرچھائیاں صرف ان کروڑوں غریب اور متوسط آمدنی والے افراد پر نہیں پڑیں جو اس بحران کے سبب اپنی ملازمتوں یا آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو گئے۔ اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں دولت مندوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔انگریزی ویب سائٹ مارکیٹ واچ نے تحقیقی جائزہ لینے والی کمپنی ہورن ریسرچ کی ایک تازہ رپورٹ نشر کی ۔ رپورٹ کے مطابق کرونا کے سبب رواں سال 31 جنوری سے 31 مارچ کے دوران دنیا میں دولت مند ترین افراد کے 400 ارب ڈالر ہوا میں اڑ گئے۔ گویا کہ یہ افراد خسارے میں آخری ڈھائی سال کے عرصے میں کمائی گئی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھے۔مال اور کاروبار کی دنیا کی 100 بڑی شخصیات میں سے تقریبا 91 کو کرونا وائرس کے بحران میں بھاری نقصان کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ اس دوران صرف 9 شخصیات خسارے سے بچ کر منافع کمانے میں کامیاب رہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام 9 افراد چین کی شہریت رکھتے ہیں جہاں سے کرونا کی وبا ساری دنیا میں پھیلی۔

رواں سال جنوری کے اختتام سے مارچ کے اختتام تک دو ماہ کے دوران عالمی اسٹاک مارکیٹس کو بھی نقصان کا سامنا رہا۔ اس عرصے میں ڈا جونز کے خسارے کا تناسب 21% کے قریب رہا۔ اس کے علاوہ ٹوکیو اور ہانگ کانگ میں حصص کی مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کو

بالترتیب 18% اور 10% کا نقصان اٹھانا پڑا۔ چین کے اسٹاک ایکسچینج میں 0.2% کی معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔ یہ دنیا بھر میں واحد مرکزی اسٹاک مارکیٹ تھی جو خسارے کے دائرے سے باہر آنے میں کامیاب رہی۔کرونا وائرس کے بحران کی جانب سے ڈھائی گئی قیامت

صرف اسٹاک مارکیٹس تک محدود نہیں رہی۔ اس دوران دنیا بھر میں پیداوار کا پہیہ جام ہو گیا اور کروڑوں انسان گھروں میں بیٹھ جانے پر مجبور ہو گئے۔اس دوران وینٹی لیٹرز اور ماسک کی طرح بیجنگ میں تیار ہونے والے طبی لوازمات کی مانگ میں بھی شدت سے اضافہ ہوا۔ ان کے

علاوہ فاصلاتی تعلیم سے متعلق مصنوعات اور وڈیو کانفرنس کی طلب بڑھ گئی۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جو چینی کمپنیاں بھی پیش کرتی ہیں۔ اسی سبب مذکورہ عرصے میں ان کمپنیوں نے بھاری منافع یقینی بنایا۔وڈیو کانفرنس کی خدمات پیش کرنے والی کمپنی زوم کے بانی کے مطابق

مذکورہ دو ماہ کے عرصے میں ان کی دولت تقریبا 77% اضافے کے ساتھ 8 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔کرونا وائرس کے سبب دو مذکورہ دو ماہ کے عرصے میں جس دولت مند شخصیت کو سب سے زیادہ خسارہ ہوا وہ برنارڈ آرنولٹ ہیں۔ وہ معروف ٹریڈ مارک ایل وی ایم ایچ

کے مالک ہیں۔ تحقیقی مطالعے میں زیر غور آنے والے دو ماہ کے عرصے میں برنارڈ کی دولت میں تقریبا 30 ارب ڈالر کی کمی آئی۔ اس کا مطلب ہوا کہ اس مدت میں ہر گھٹنے کے دوران برنارڈ نے اوسطا 2 کروڑ ڈالر سے ہاتھ دھوئے۔مارکیٹ واچ کی رپورٹ کے مطابق اس دوران ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی دولت میں تقریبا 9 ارب ڈالر کی کمی آئی۔ تاہم وہ 131 ارب ڈالر کے قریب دولت کے ساتھ اب بھی روئے زمین پر امیر ترین شخص ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…