بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہندوتوا کے پرچار نام نہاد سکیولر ملک بھارت کی پھر روایتی ہٹ دھرمی سکھوں کو بابا گرونانک کی برسی کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)ہندوتوا کے پرچار نام نہاد سکیولر ملک بھارت کی پھر روایتی ہٹ دھرمی،دنیا کے سب سے بڑی جمہوریہ کے دعویدار بھارت کے سیکولرزم کا بھانڈا پھوٹ گیا اور سکھوں کو بابا گرونانک کی برسی کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق

دنیا کے مختلف ممالک سے بھی سکھوں کے جتھے کرتارپور پہنچے ہیں،سیکولر بھارت نے پھر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے سکھوں کو کرتار پور آنے سے روک دیا،مودی کے بھارت نے سکھ برادری کو گرونانک کی برسی کی تقریبات میں شرکت کی اجازت نہ دی،پاکستان نے کورونا کے بعد انتظامات مکمل کرکے کرتاپور راہداری کھولنے کے فیصلے سے بھارت کو آگاہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق دفترخارجہ نے کرتار پور راہداری کے ذریعے سکھوں کے پاکستان آنے سے متعلق دو خطوط بھی لکھے، دفترخارجہ نے بھارت کو پہلا خط 27 جون جبکہ دوسرا 27 اگست کو تحریر کیا۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے پاکستان کے دونوں خطوط پر کوئی ردعمل نہیں دیا، بھارت نے تاج محل سیاحوں کے لئے کھولا لیکن سکھوں کو باباگرنانک کی برسی پر کرتارپور آنے کا موقع فراہم نہیں کیا، ہندوتوا کے پرچار میں مگن مودی سرکار کے بھارت میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی چھین لی گئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…