ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

بی جے پی رہنمائوں نے مودی کو خوش کرنے  کے لئے لال چوک کی جعلی تصویر اپلوڈ کردی

datetime 16  اگست‬‮  2020 |

سرینگر (این این آئی)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جہاں 15 اگست کوبھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ایک بارپھر بھاری تعداد میں بھارتی فوج اور دیگر فورسز تعینات اور سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں وہیں بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک کی ایک جعلی تصویر ٹویٹ کی جس میں مشہور زمانہ گھنٹہ گھر پر بھارت کا پرچم لہراتا ہوا دکھا یاگیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق  لداخ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جم یانگ سیرنگ نمگیال نے ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ لال چوک میں گھنٹہ گھرپر بھارتی جھنڈا لہرایا گیا ہے۔نمگیال نے لکھاکہ لال چوک سرینگر جو خاندانی سیاست دانوں اور جہادی قوتوں کے لیے بھارت مخالف مہم کا مرکزبنا ہواتھا اب وہ قوم پرستی کا تاج بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ مودی ہے تو ممکن ہے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کو منتخب کرنے کے لئے میرے ہم وطنوں کا شکریہ۔نمگیال کے بعد بی جے پی کے ایک اور رہنما کپل مشرا نے بھی ہفتے کی شام دیر گئے اسی طرح کی تصویر شیئر کی۔ مشرا نے اس دعوے کے ساتھ اس تصویر کو ٹویٹ کیا جس میں لکھا ہے”لال چوک پر ترنگا”۔تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے دوسرے رہنماکی تصویر جعلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل تصویر اگست 2010 میں ایک صحافی مبشر مشتاق نے”پیراڈائز لاسٹ ” کے عنوان سے ایک مضموںمیں اپ لوڈ کی تھی۔ بی جے پی رہنمائوں کی طرف سے اپ لوڈ کی گئی تصویر بالکل وہی ہے اور اس میں بھارتی پرچم کا اضافہ کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ تصویر میں موجود عمارتیں بہت پہلے تبدیل ہوچکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ واضح طور پر ایک پرانی فوٹو شاپ کی گئی تصویر کا استعمال اس دعوے کے لئے کیا جارہا ہے کہ سرینگر کے لال چوک میں گھنٹہ گھر پربھارتی پرچم لہرا یاگیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…