جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

30منٹ میں کرونا کا خاتمہ انڈونیشیا نے وائرس کے علاج کا دعویٰ کردیا، تجربات کے حیرت انگیز نتائج،جولائی سے بڑے پیمانے پر تیار ی کا اعلان

datetime 9  جولائی  2020 |

جکارتہ(این این آئی )دنیا کے دیگر ممالک جہاں مہلک کورونا وائرس کا علاج ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں وہیں انڈونیشیا کی وزارت زراعت کے دعوے نے سب کو حیران کردیا ہے۔انڈونیشیا کی وزارت زراعت نے اس کی ماتحت ایجنسی اوڈیٹی سینٹرل کی جانب سے تیار کردہ یوکلپٹس سے بنے ہار پہننے کو کورونا وائرس کے حل کے طور پر سامنے لانے کا دعوی کیا ہے۔

میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق یہ نام نہاد انسداد وائرس ہار انڈونیشیا کی وزارت زراعت کی ہیلتھ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی بالیبنگتان نے تیار کیا جسے اگلے ماہ سے بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے گا۔انڈونیشیا کے وزیر زراعت یاہرول یاسین لِمپو نے کہا کہ یہ ہار یوکلپٹس کی اس قسم سے تیار کیا گیا ہے جس میں کورونا وائرس کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کہ اس ہار کو صرف 15 منٹ پہننے سے 42 فیصد وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے جبکہ 30 منٹ پہننے سے اس کی تاثیر دگنی ہوجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکلپٹس کی 700 اقسام میں سے ہمارے لیب ٹیسٹ کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف ایک قسم کورونا وائرس کا خاتمہ کر سکتی ہے اور اس حوالے سے ہمیں پورا یقین ہے۔بالیبنگتان کے سربراہ نے کہا کہ اگر کوئی سیاست دان اس معجزاتی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہوتا تو میں سمجھ سکتا تھا، لیکن صرف یاہرول یاسین ہی یوکلپٹس ہار کی تعریف نہیں کر رہے ہیں بلکہ اسے کورونا کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ہار کو وزارت زراعت کے کورونا سے متاثرہ 20 ملازمین پر آزمایا اور انہیں اسے سونگھنے کا کہا جس کے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آئی اور انہوں نے مثبت رائے دی۔

تاہم انڈونیشیا کے سائنسدانوں نے یوکلپٹس کی تاثیر کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ۔ایجمان انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بایولوجی کے نائب ڈائریکٹر ہیرواتی سودویو نے بتایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ دنیا اب تک اس بیماری کا علاج تلاش نہیں کر سکی ہے، اس لیے میرے خیال میں عقلمندی یہی ہے کہ گھبرائے ہوئے معاشرے میں مزید دعوے نہ پھیلائے جائیں۔بوگور ایگریکلچر یونیورسٹی کے شعبہ بایولوجی کے لیکچرار بیری جولیاندی کا کہنا تھا کہ عوام آسانی سے اس بات پر یقین کر سکتے ہیں وہ اس غیر سائنسی ہار سے وائرس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…