ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی حکومت کا لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ نہ ہونے کا انکشاف،سرکاری اعداد و شمار میں حیرت انگیز بات سامنے آ گئی

datetime 7  جولائی  2020 |

لندن(این این آئی)برطانوی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں کیے جا رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر (ڈی ایچ ایس سی) نے بتایاکہ جب سے ٹیسٹنگ شروع ہوئی ہے ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ٹیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے 80 لاکھ کے قریب ہی پراسیس کیے جا سکے ہیں۔20 لاکھ سے زیادہ یا پانچ میں سے ایک ٹیسٹ،

یا تو لیبارٹری میں بھیجے ہی نہیں گئے یا پھر غلط قرار دیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم کے ترجمان نے رپورٹرز کو بتایا کہ کچھ لوگ ٹیسٹ کے لیے کہیں گے اور پھر کسی بھی وجہ سے ٹیسٹ واپس نہیں بھیجیں گے۔جب ڈی ایچ ایس سی کے اعداد و شمار ان کے سامنے رکھے گئے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس کے متعلق مصدقہ نمبر نہیں دیکھے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈانننگ سٹریٹ نے لوگوں کی ٹیسٹنگ کے روزانہ کے اعداد و شمار کو شائع نہ کرنے کا دفاع کیا ہے۔ اس کے برعکس وہ اس کی حمایت کرتی ہے کہ یہ شائع کیا جائے کہ کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔وزیرِ اعظم کے ترجمان نے کہا کہ ڈی ایچ ایس سی اب یہ شائع نہیں کرے گی کہ کتنے لوگوں کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے بلکہ وہ شائع کرے گی کہ روزانہ کتنے ٹیسٹ پراسیس کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ٹیسٹنگ کا ڈیٹا صرف یہ بتاتا ہے کہ کتنے نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ مثلا اگر کسی کو فروری میں ٹیسٹ کیا گیا اور پھر دوبارہ اس ماہ ٹیسٹ کیا گیا تو اسے صرف ایک ہی تصور کیا جائے گا۔ برطانوی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں کیے جا رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر (ڈی ایچ ایس سی) نے بتایاکہ جب سے ٹیسٹنگ شروع ہوئی ہے ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ٹیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے 80 لاکھ کے قریب ہی پراسیس کیے جا سکے ہیں۔20 لاکھ سے زیادہ یا پانچ میں سے ایک ٹیسٹ، یا تو لیبارٹری میں بھیجے ہی نہیں گئے یا پھر غلط قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…