چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا

  منگل‬‮ 26 مئی‬‮‬‮ 2020  |  16:38

برلن (این این آئی)یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے۔جوزف


بوریل نے کورونا وائرس کی وبا کو ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ دونوں اطراف (امریکا یا چین) میں سے کسی ایک کے انتخاب کرنے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 27 ممالک کے یورپی یونین کو ’اپنے مفادات اور اقدار پر عمل کرنا چاہیے اور ایک یا دوسرے کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے۔جوزف بوریل نے مزید کہا کہ ہمیں چین کے لیے مزید مضبوط حکمت عملی سمیت دیگر جمہوری ایشیائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی بھی ضرورت ہے۔یورپی یونین امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے خلاف تضادم پر مبنی مؤقف کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے۔بوریل نے کہا کہ یورپی یونین چین کے معاملے میں محتاط تھا لیکن اب اس کا خاتمہ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ اس ماہ متعدد یورپی اخباروں میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں چین کے حوالے سے مزید اجتماعی نظم و ضبط پر زور دیا گیا ہے۔یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے متعلق تھنک ٹینک کے ایسوسی ایٹ سینئر پالیسی کے ساتھی اینڈریو سمال نے کہا کہ بیجنگ کچھ عرصہ پہلے تک روس کے یورپی یونین کے شکوک و شبہات کو چھپانے میں کامیاب رہا۔انہوں نے کہا کہ چین نے 8-2007 میں یورپ کی معاشی بحالی میں قرضوں سے متعلق اہم فیصلے لے کر مدد کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا چین پر سخت مؤقف تھا لیکن اگر یورپ نے چین کو یکسر طور پر مسترد کر دیا تو اس کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں مرکزی ساتھی بچے گا۔


موضوعات: