منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

چین، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن گیا

datetime 26  مئی‬‮  2020 |

برلن (این این آئی)یورپی یونین کے امور خارجہ کے سربراہ جوزف بوریل نے چین اور امریکا کے مابین راستہ بنائے جانے کے معاملے اور یورپ میں بڑھتی ہوئی بحث و مباحثے کے دوران کہا ہے کہ ایشیائی صدی، امریکا کے زیر قیادت عالمی نظام کے خاتمے کی علامت بن چکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق جرمن سفارتکاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

تجزیہ کار طویل عرصے سے امریکی کے زیر قیادت نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کے بارے میں بات کررہے ہیں، یہ بات اب ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے۔جوزف بوریل نے کورونا وائرس کی وبا کو ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ دونوں اطراف (امریکا یا چین) میں سے کسی ایک کے انتخاب کرنے کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 27 ممالک کے یورپی یونین کو ’اپنے مفادات اور اقدار پر عمل کرنا چاہیے اور ایک یا دوسرے کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے۔جوزف بوریل نے مزید کہا کہ ہمیں چین کے لیے مزید مضبوط حکمت عملی سمیت دیگر جمہوری ایشیائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی بھی ضرورت ہے۔یورپی یونین امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے خلاف تضادم پر مبنی مؤقف کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے۔بوریل نے کہا کہ یورپی یونین چین کے معاملے میں محتاط تھا لیکن اب اس کا خاتمہ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ اس ماہ متعدد یورپی اخباروں میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں چین کے حوالے سے مزید اجتماعی نظم و ضبط پر زور دیا گیا ہے۔یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے متعلق تھنک ٹینک کے ایسوسی ایٹ سینئر پالیسی کے ساتھی اینڈریو سمال نے کہا کہ بیجنگ کچھ عرصہ پہلے تک روس کے یورپی یونین کے شکوک و شبہات کو چھپانے میں کامیاب رہا۔انہوں نے کہا کہ چین نے 8-2007 میں یورپ کی معاشی بحالی میں قرضوں سے متعلق اہم فیصلے لے کر مدد کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کا چین پر سخت مؤقف تھا لیکن اگر یورپ نے چین کو یکسر طور پر مسترد کر دیا تو اس کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں مرکزی ساتھی بچے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…