ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

کرونا وائرس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا بھی خطرہ ،امریکہ میں ہونے والی طبی تحقیق کے ہوشربا نتائج

datetime 17  مئی‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ورجینیا (این این آئی)نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 خون کی شریانوں کے سنگین مسائل بشمول ہارٹ فیلیئر، ہارٹ اٹیک اور خون کے لوتھڑے بننے سے فالج کا باعث بن سکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یونیورسٹی آف ورجینیا ہیلتھ سسٹم کی اس تحقیق میں انتباہ کیا گیا کہ کووڈ 19 کے علاج میں ان ادویات کو شامل کیا جانا چاہیے جو خون کی شریانوں سے جڑے امراض کے مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

اس تحقیق کا مقصد ایمرجنسی میڈیسین ڈاکٹروں کو مریضوں کے علاج کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں زیادہ تر توجہ پھیپھڑوں کی پیچیدگیوں پر دی جاتی ہیں مگر خون کی شریانوں سے جڑی پیچیدگیوں پر زیادہ کام نہیں ہوا جو موت یا طویل المعیاد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تحقیقی مقالے سے ہمیں توقع ہے کہ ڈاکٹروں کا علم بڑھے گا اور جان سکیں گے کہ یہ نیا وائرس کس طرح خون کی شریانوں سے جڑے نظام پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ مریضوں میں کووڈ 19 کا سامنا ہورہا ہے اور اس بیماری کے حوالے سے ہماری معلومات میں بھی اضافہ ہورہا ہے کہ یہ کس طرح جسم پر اثرانداز ہوتی ہے۔ہارٹ فیلیئر کووڈ 19 کے مریضوں میں خاص طور پر تشویش کا مرکز ہے اور اس تحقیقی مقالے میں بتایا گیا کہ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ لگ بھگ کووڈ 19 کے ایک چوتھائی یا 24 فیصد مریضوں کو ہارٹ فیلیئر کا سامنا ہوتا ہے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ ہارٹ فیلیئر کووڈ 19 کا براہ راست نتیجہ تھا یا وائرس نے پہلے سے تشخیص نہ ہونے والے دل کی اس بیماری کو مزید بدتر کردیا۔درحقیقت ہارٹ فیلئر کے لگ بھگ 50 فیصد مریضوں کو علم نہیں ہوتا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر یا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا شکار ہیں۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کووڈ 19 اور جسم میں شدید ورم کا باعث بننے والے دیگر امراض سے خون کی شریانوں میں چربیلے مواد کا خطرہ بڑھتا ہے جو ہارٹ اٹیک اور فالج کا باعث بنتا ہے۔

انفلوائنزا اور چند دیگر وائرسز کو اس چربیلے مواد کے خطرے سے منسلک کیا جاتا ہے اور ایسا مرض کی تشخیص کے پہلے ہفتے میں ہونے کا امکان ہوتا ہے۔آخر میں محققین نے کووڈ 19 کے لیے ممکنہ ادویات کا ذکر بھی کیا ہے، جیسے ملیریا کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن کا استعمال دل کے ردھم کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے اثر کو متاثر کرسکتی ہے۔دوسری جانب امریکا اور جاپان میں ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے جس دوا ریمیڈیسیور کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہ بلڈ پریشر میں کمی اور دل کی ردھم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔محققین نے کہا کہ ڈاکٹروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان خطرات کو ذہن میں رکھ کر کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کریں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…