اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

نماز تراویح پر پابندی کے بعد نمازعید کی ادائیگی بھی گھروں پر،سعودی مفتی اعظم نے اعلان کر دیا

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی) سعودی عرب کے مفتی اعظم مفتی عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد الشیخ نے کہا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وبا جاری رہتی ہے تو لوگ اس کی روک تھام کیلئے احتیاط کے طور پر رمضان میں نماز تراویح اور عید کی نماز گھروں میں ادا کریں گے۔اپنے بیان میں سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ گھروں میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد خطبہ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت صحت نے جمعرات کو ملک میں کورونا وائرس کے 518 نئے کیسز اور 4 اموات کی تصدیق کی تھی۔ان نئے کیسز میں سے 195 جدہ، 91 مدینہ، 84 ریاض، 58 مکہ اور 38 دمام میں سامنے آئے تھے۔سعودی وزارت صحت کے مطابق اب تک ملک میں وائرس سے 990 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔دوسری جانب سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے کہا کہ مساجد میں روزانہ 5 وقت نماز پر پابندی نماز تراویح پر پابندی سے زیادہ اہم ہے، نماز تراویح کو گھر میں پڑھا جائے یا مسجد میں ، امید ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیں گے، ہمارے خیال میں لوگوں کی صحت اہمیت رکھتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ ہماری نمازوں کو قبول فرمائے اور انسانیت کو اس وبا سے بچائے جو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے،اس وبا کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ ہے جس کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا ہے،2 مارچ کو مختلف حصوں میں کرفیو کا 21 دن تک نفاذ کیا گیا تھا جس کے دورانیے میں 12 اپریل کو مزید اضافے کا اعلان کیا گیا،پہلے کرفیو کا دورانیہ شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک تھا، بعد میں اسے دوپہر 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…