جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا سے متاثرہ مریضوں میں کون سے زیادہ مسائل عام ہوتے ہیں؟ چین میں نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 13  اپریل‬‮  2020 |

بیجنگ (این این آئی) چین میں نئی تحقیق میں دریافت کیا گیا ہے کہ اس کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے سنگین کیسز میں فالج اور دیگر دماغی مسائل زیادہ عام ہوتے ہیں۔تحقیق کے دوران کورونا وائرس کے 214 سنگین کیسسز کو دیکھا گیا جن کا علاج وبا کے آغاز میں چین کے شہر ووہان میں ہوا تھا اور ڈاکٹروں نے 36 فیصد سے زائد یا ہر 3 میں سے ایک مریض میں دماغی مسائل کی علامات کو دریافت کیا۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ کئی بار یہ علامات کووڈ 19 کی روایتی علامات جیسے بخار، کھانسی وغیرہ کے بغیر ہی ظاہر ہوئیں۔ووہان کے یونین ہاسپٹل کی اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر بو ہو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کیسز میں طبی ماہرین کو دماغی علامات کو کورونا وائرس کی ممکنہ نشانیاں سمجھنا چاہیے تاکہ تشخیص میں تاخیر نہ ہوسکے یا غلط تشخیص نہ ہوسکے، تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔یہ شبہ کے نیا کورونا وائرس دماغ اور مرکزی اعصابی نظام میں مداخلت اور متاثر کرتا ہے، نیا نہیں۔حالیہ ہفتوں میں متعدد رپورٹس میں اس بیماری کی ایک اہم علامت کی نشاندہی کی گئی ہے جو سونگھنے کی حس سے محرومی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس اعصابی نظام پر اثرانداز ہوتا ہے۔ نئی تحقیق میں تحقیقی ٹیم نے ووہان کے 3 ہسپتالوں میں 200 زائد مریضوں کے علاج کے نتائج کا جائزہ لیا۔ان تمام مریضوں میں مرض کی شدت بہت زیادہ تھی اور ان کا علاج 16 جنوری سے 19 فروری کے دوران ہوا تھا اور ان کی اوسط عمر 53 سال تھی۔ان افراد کے دماغی یا مرکزی اعصابی نظام کے متاثر ہونے کی علامات پر توجہ دینے سے تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ یہ مسائل اس وقت زیادہ عام ہوتے ہیں جب بیماری کی شدت بڑھتی ہے، جبکہ کچھ کیسز میں کووڈ 19 کی روایتی علامات نظر نہیں آئیں۔کچھ کیسز میں یہ دماغی یا اعصای مسائل جان لیوا ثابت ہوا، کم از کم ایسے 6 کیسز ایسے تھے جن میں فالج یا برین ہیمرج کا مشاہدہ ہوا۔

یہ تو ابھی واضح نہیں کہ کورونا وائرس فالج کا براہ راست سبب بنا مگر تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے سنگین کیسز میں حالت خراب ہونا دماغی مسئلے جیسے فالج کا نتیجہ ہوسکتی ہے جو کہ اموات کی زیادہ شرح میں کردار ادا کرتا ہے۔دیگر دماغی مسائل بھی کردار ادا کرتے ہیں، ہسپتال آنے والے متعدد مریضوں میں ذہنی الجھن، سرچکرانے یا سردرد کی شکایات بھی دیکھی گیں جبکہ چکھنے یا سونگھنے کی حس سے محرومی کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معمر مریض، جو پہلے ہی کسی دائمی مرض کا شکار ہوتے ہیں، ان میں دماغی مسائل کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔مگر محقین کا کہنا تھا کہ یہ نئے کورونا وائرس سے دماغ پر مرتب اثرات کے حتمی نتائج نہیں، درحقیقت اس حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کی مکمل تصدیق کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…