جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ،خبردار کردیا گیا

datetime 5  اپریل‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا کرونا کی وبا سے فوت ہونیوالے افراد کی میتوں کو غسل دینے سے یہ بیماری مزید پھیل سکتی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ میت کی تدفین تک تمام مراحل عزت واحترام کے ساتھ انجام دیے جانے چاہئیں۔ تاہم مردے کو میت دینے کا عمل پیشہ ور افراد کو کرنا چاہیے چاہے وہ محکمہ صحت کے اہلکار ہوں یا دوسرے افراد ہوں۔ بیماری پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر میت کو غسل دینے والے افراد کو تمام تر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے۔ یہ احتمال موجود ہے کہ میت سے غسل اور تدفین کے وقت وائرس دوسرے لوگوں تک منتقل ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…