ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ایرانی ہیکروں کا ڈبلیو ایچ او  پر حملہ  ورلڈ ہیلتھ آگنائزین نے دوٹوک فیصلہ سنا دیا 

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

لندن/تہران(این این آئی) ایرانی حکومت کے لیے کام کرنے والے ہیکروں نے کرونا وائرس کے بحران کے دوران عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے ملازمین کے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی تھی۔یہ واضح نہیں کہ واقعی کسی اکاؤنٹ کو ہیک کیا گیا تھا یا نہیں لیکن ان حملوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور وائرس پر قابو پانے کے لیے

سرگرم بین الاقوامی ادارے ہیکروں کے سائبر حملوں کا شکار ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق چار با خبر ذرائع نے بتایا کہ مارچ میں کرونا وائرس کے بحران کے آغاز کے بعد عالمی ادارہ صحت اور اس کی شراکت دار تنظیموں پرسائبر حملے دوگنا سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ملازمین کی ایل میل پرحملوں کے بارے میں چار ذرائع نے بتایا کہ 2 مارچ کے بعد سے ہیکنگ کی کوشش میں ڈبلیو ایچ او کے ملازمین کے پاس ورڈ چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔ ملازمین کے ذاتی ای میل اکاؤنٹس کو گوگل ای خدمات کی فالونگ کے لیے ڈیزائن کردہ پیغامات بھیجے گئے۔برطانوی خبررساں ادارے نے ویب سائٹس کے سلسلے کا جائزہ لینے کے بعد ان نتائج کی تصدیق کی جس میں مضر مواد اور دیگر ڈیٹا شامل ہیں۔آن لائن سائبر حملوں کی نگرانی کرنے والی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے کام کرنے والے ایک ذرائع نے بتایا کہ ہم نے بہ ظاہر سائبر دراندازی کرنے والوں کو ناکام بنایا ہے۔ ہم نے ان کی شناخت کی ہے اور وہ ایرانی حمایت یافتہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ عناصر ماضی میں بھی عالمی ادارہ صحت کے ملازمین کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق گازاراویچ نے تصدیق کی کہ حملہ آوروں نے ڈبلیو ایچ او کے عملے کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کو نشانہ بنایا تھا لیکن تنظیم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق ان حملوں میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔درایں اثناء ایرانی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کے ملازمین کے ذاتی ای میل ہیک کرنے کا الزام مسترد کردیا ۔ ایرانی انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے ترجمان نے کہا کہ ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے اس طرح کے من گھڑت جھوٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ ایران خود ہیکنگ اور خوفناک سائبر حملوں کا شکار رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…