ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کرونا وائرس نے ایچ آئی وی کی دوا تیار کرنے والی سائنسدان کی جان لے لی

datetime 3  اپریل‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)دنیا بھر میں اور خاص طور پر افریقہ میں مہلک وبا ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے میں متحرک کردار ادا کرنے والی جنوبی افریقن سائنسدان 64 سالہ گیتا رام جی بھی کورونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے کے بعد چل بسیں۔میڈیار پورٹ کے مطابق گیتا رام جی نے افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا ، انہوں نے اسی مہلک مرض کی دوا تیار کرنے میں بھی مدد کی۔

گیتا رام جی نے خصوصی طور پر افریقہ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا، انہوں نے برصغیر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ خواتین کی سماجی زندگی بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔انہیں ایچ آئی وی پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی تیار کرنے والے نامور ماہرین میں شمار میں کیا جاتا تھا اور انہیں ان کی خدمات کے عوض امریکا سے لے کر برطانیہ کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں نے اعزازی ڈگریوں سے نواز رکھا تھا۔کورونا وائرس جیسی علامات میں مبتلا ہونے کے بعد نامور ماہر کی اچانک موت پر اقوام متحدہ کے ایڈز سے متعلق ادارے ان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کی خدمات پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔یو این ایڈز کی جانب سے بتایا گیا کہ 64 سالہ گیتا رام جی 31 مارچ کو دوران علاج چل بسیں مگر انہیں ان کی خدمات کے عوض ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 64 سالہ گیتا رام جی نے حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے ایک طبی سیمینار میں شرکت کی تھی۔طبی سیمینار میں شرکت کے بعد گیتا رام جی کی طبعیت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا اور ان میں کورونا جیسی علامات بھی پائی گئی تھیں۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ ان کی موت کورونا کی وجہ سے ہی ہوئی، تاہم بتایا گیا کہ ان میں بھی وبا جیسی علامات پائی گئی تھیں۔ڈاکٹر گیتا رام جی موت کی موت پر انہیں ان کی ساتھی ڈاکٹرز نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والی خاتون ڈاکٹر کورونا سے متاثر ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔ان کی موت جنوبی افریقی شہر ڈربن کے ہسپتال میں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…