جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

والد کی وفات کو ایک ہفتہ سے زائد ہو گیا، نہ جنازہ ہوا نہ تدفین ہو سکی، کرونا سے مرنے والے کو تدفین کیلئے جگہ دینے سے انکار کر دیا گیا، والد کی قبر کیلئے جگہ تلاش کرتے ہوئے رنجیدہ بیٹے کے تاثرات

datetime 1  اپریل‬‮  2020 |

عراق (نیوز ڈیسک) کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے معمر شخص کو کوئی بھی قبر کے لئے جگہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ عراق کے رہائشی سعد ملک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے والد کو کرونا وائرس کی وجہ سے کھو دیا، عراق کے قبرستان میں گزشتہ ایک ہفتہ سے والد کی تدفین کے لئے جگہ تلاش کر رہا ہوں لیکن کوئی بھی میرے والد کو قبر کے لئے جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

سعد ملک نے کہا کہ اپنے والد کا ہم جنازہ بھی نہیں پڑھ پا رہے نہ ان کی تدفین اب تک ممکن ہو سکی ہے۔ سعد ملک نے انتہائی رنجیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ جب اس کے والد فوت ہوئے تو مسلح افراد جنہوں نے اپنی شناخت قبائلی رہنما کے طور پر کروائی ہے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے علاقے میں والد کو دفن کیا تو ان کی گاڑی کو آگ لگا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ عراق جیسے اتنے بڑے ملک میں ہمیں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کے لئے چند گز زمین بھی نہیں مل رہی۔ عراق کے قریب بسنے والے شہریوں نے اپنا نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی افراد نے طے کیا ہے کہ اپنے علاقے میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے کسی شخص کو دفن نہیں کیا جائے گا، ہم اپنے بچوں اور اہل خانہ کی صحت کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں۔ اس کے برعکس عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد ابھی تک سامنے نہیں آئے جس سے پتہ چل سکے کہ وائرس مردہ افراد کے ذریعے پھیلتا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…