جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکہ مذاکرات نہیں بلکہ کیا چاہتا ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دھماکہ خیز بات کر دی

datetime 18  فروری‬‮  2020 |

میونخ (این این آئی) ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس‘ میں پینل سیشن سے گفتگو میں کہا کہ امریکا، ایران سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا بلکہ حکومت میں تبدیلیاں چاہتا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے الزام لگایا کہ امریکا کی ایران میں موجودہ حکومت گرانے کی کوشش امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کی کوششوں میں ناکامی کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے’میونخ سیکیورٹی کانفرنس‘ میں پینل سیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دارومدار صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جاپان کے وزیِراعظم اور فرانسیسی صدر کی کوششیں بھی رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہیں جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت گرنے والی ہے اور وہ گرتی ہوئی حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہ رہے لیکن میرا خیال ہے کہ وہ غلط سمجھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں شاید صرف حکومت کی تبدیلی ہی نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے نظام ہی بدل جائے۔ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے امریکا سے مطالبہ بھی کیا کہ امریکا ایران کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرے اور خطے میں اس کے کردار کو بھی سمجھے۔انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 41 سالوں سے یہ سب کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے امریکا کو چاہیے کہ وہ خطے میں ایران کی حیثیت کو تسلیم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…