امریکہ مذاکرات نہیں بلکہ کیا چاہتا ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دھماکہ خیز بات کر دی

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  0:03

میونخ (این این آئی) ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس‘ میں پینل سیشن سے گفتگو میں کہا کہ امریکا، ایران سے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا بلکہ حکومت میں تبدیلیاں چاہتا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے الزام لگایا کہ امریکا کی ایران میں موجودہ حکومت گرانے کی کوشش امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کی کوششوں میں ناکامی کا باعث بن رہی ہے۔انہوں نے’میونخ سیکیورٹی کانفرنس‘ میں پینل سیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دارومدار صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس


کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جاپان کے وزیِراعظم اور فرانسیسی صدر کی کوششیں بھی رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہیں جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت گرنے والی ہے اور وہ گرتی ہوئی حکومت سے مذاکرات نہیں کرنا چاہ رہے لیکن میرا خیال ہے کہ وہ غلط سمجھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں شاید صرف حکومت کی تبدیلی ہی نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے نظام ہی بدل جائے۔ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے امریکا سے مطالبہ بھی کیا کہ امریکا ایران کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرے اور خطے میں اس کے کردار کو بھی سمجھے۔انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ 41 سالوں سے یہ سب کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے امریکا کو چاہیے کہ وہ خطے میں ایران کی حیثیت کو تسلیم کرے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎