ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ابھی تک ہم قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکے،ایران کا اعتراف،ساتھ ہی امریکہ کو خبر دار کردیا

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

میونخ (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک عسکری ملیشیائوں کو نہیں بلکہ ان افراد کی مدد کرتا ہے جو تہران کی حمایت کرتے ہیں۔ میونخ میں منعقدہ عالمی سلامتی کانفرنس سے خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج کے حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کاانتقام پورا نہیں ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بہت سے لوگوں نے اس کا انتقام لینے کا سوچا مگر ہم انہیں کنٹرول نہیں کرسکتے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ابھی تک ہم قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکے ہیں۔خیال رہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کمانڈر قاسم سلیمانی کو دو اور تین جنوری کی درمیانی شب بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب امریکا نے ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا۔جواد ظریف نے مزید کہا کہ امریکیوں نے قاسم سلیمانی کو قتل کیا اب وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک سلامتی کا مشن تھا۔ میں پوچھتا ہوںکہ قاسم سلیمانی سے کس کو خطرہ تھا اور کون اس قتل سے محفوظ ہوا ہے؟انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے موجودہ سیاسی نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ امریکی 41 سال سے اس کوشش میں ہیں مگر ناکام ہیں۔جواد ظریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوںکی وجہ سے ہم خطرناک ترین دور سے گذر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایران میں نظام کے سقوط کا انتظار کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ سلیمانی کے قتل کے بعد ایران گھٹنے ٹیک دے گا، مگر یہ اس کی خام خیالی ہے۔قبل ازیں جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ نے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا ایران کی طرف سے یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اس بات کاثبوت ہے کہ ایران مسلسل خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے حال ہی میں ایران کی طرف سے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے بھیجے گئے 385 میزائل پکڑے ہیں۔ ایران کی طرف سے حوثیوں کو میزائلوںکی فراہمی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توہین ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…