جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

بغداد میں امریکی فوجی ایرانی میزائل حملوں سےکیسے بچ نکلے؟ائیربیس پر موجود اہلکاروں نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)ایران کے آٹھ جنوری کو عراق میں امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل سے حملے میں وہاں موجود امریکی اہلکاروں نے کہاہے کہ وہ معجزانہ طور پر اس حملے میں محفوظ رہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس حملے سے متعلق امریکی فضائیہ کی افسر لیفٹیننٹ کرنل اسٹیکی کولیمین نے عراق کے مغربی علاقے انبار میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ معجزے سے کم نہیں کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔صحرائی علاقے انبار میں امریکہ کے 1500 فوجی تعینات ہیں اور اس جنگی محاذ کی قیادت خاتون لیفٹیننٹ کرنل اسٹیکی کولیمین کر رہی ہیں۔ان کے بقول، کون یہ سوچ سکتا تھا کہ ان پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ ہو گا اور اس میں وہ محفوظ رہیں گے۔ایئربیس پر موجود کئی فوجیوں نے بتایا کہ جن دیواروں کے عقب میں انہوں نے پناہ لے رکھی تھی وہ حملے میں تباہ ہو چکی ہیں۔ایئربیس پر موجود امریکی اہلکار ٹومی کالڈ ویل نے بتایا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ہی ہمیں ایک نوٹی فکیشن موصول ہوا تھا کہ بیس پر حملے کا خدشہ ہے اس لیے فوری طور پر یہاں سے ساز و سامان منتقل کیا جائے۔لیفٹیننٹ کرنل کولیمین نے بتایا کہ رات 10 بجے ہی تمام اسٹاف حملے سے بچنے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا تھا اور لوگوں نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا تھا۔اْن کے بقول اہلکاروں کے محفوظ مقام پر منتقل ہونے کے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے بعد میزائل آنا شروع ہوئے اور دو گھنٹے تک میزائلوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔کینتھ گڈون نے بتایا کہ ہم بنکروں میں پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک رہے اور شاید سات سے آٹھ گھنٹے تک وہیں قیام کرنا پڑا۔لیفٹیننٹ کرنل کولیمین نے کہا کہ ایران کے میزائل حملوں سے قبل ہم نے سنا تھا کہ ملیشیا کی جانب سے ممکنہ طور پر راکٹ داغے جا سکتے ہیں جس کا ہمیں کوئی خوف نہیں تھا لیکن بیلسٹک میزائلوں سے حملہ واقعی حیران کن تھا۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…