جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر میں جاری جنگی محاذوں پر بچوں پر حملوں، ہلاکتوں کی تعداد میں  2010 کے مقابلے میںتشویشناک حد تک اضافہ،اقوام متحدہ کا انکشاف

datetime 30  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک( آن لائن )اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری جنگی محاذوں پر بچوں پر حملوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں 2010 کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 10سالوں کے دوران نت نئے جنگی محاذ کھلے ہیں اور ان محاذوں کے دوران سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہوا ہے

جہاں ان ہولناک جنگی محاذوں میں ہزاروں بچے ہلاک اور لاکھوں معذور و بے گھر ہو گئے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2010 سے اب تک جنگوں میں بچوں کی ہلاکتوں، جنسی استحصال، اغوا، بنیادی انسانی حقوق تک رسائی میں مشکلات، اسکول اور ہسپتالوں پر حملے اور بچوں کے بڑی تعداد میں زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ 2010 سے اب تک بچوں کے خلاف ایک لاکھ 70ہزار سے زائد سنگین جرائم کے حامل واقعات رپورٹ ہوئے اور اس لحاظ سے گزشتہ 10سال کے دوران روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے خلاف 45 جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹا فور نے بتایا کہ دنیا بھر میں طویل عرصے سے تنازعات جاری ہیں جس کے نتیجے میں بہت خونریزی ہوئی اور انسانی جانوں کا ضیاں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والوں نے بچوں کے تحفظ کے جنگ کے بنیادی اصولوں کو بھی روندتے ہوئے بچوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کئی علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باوجود اس دوران بچوں پر ہونے والے ظلم کے بہت سے واقعات رپورٹ بھی نہیں ہو سکے۔اقوام متحدہ کے مطابق 2018 میں بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے 24ہزار سے زائد واقعات رونما ہوئے جہاں یہ تعداد 2010 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ان میں سے آدھے سے زیادہ واقعات میں بچے فضائی حملوں یا بارودی سرنگوں اور مارٹر شیل جیسے دھماکا خیز مواد کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یونیسیف کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ بڑی تعداد میں ممالک جنگ کا حصہ ہیں اور یہ 3دہائیوں کے دوران جنگی محاذوں کا حصہ بننے والے ملکوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔یونیسیف نے دنیا بھر میں جاری تنازعات میں تین ممالک کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…