جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتی سپریم کورٹ میں کشمیری عوام کی خواہشات جاننے کیلئے ریفرنڈم کا ذکر

datetime 12  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دلی(این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ کے جج سوریہ کانت نے مقبوضہ کشمیرمیں منتخب اسمبلی کی عدم موجودگی میں بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کی خواہشات جاننے کیلئے ریفرنڈم کا ذکرکیا ہے ۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سوریہ کانت نے ان خیالات کا اظہار بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کرنے کے اقدام کی قانونی حیثیت کے بارے میں دائر عرضداشتوں کی سماعت کے دوران کیا ۔سوریہ کانت این وی رمنا کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ کا حصہ ہیں جو عرضداشتوںکی سماعت کر رہا ہے ۔ انہوںنے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اگر اس فیصلے کا حق عوام کے پاس ہے تو کیا یہ ریفرنڈم ، اتفاق رائے یا مشاورت کا معاملہ ہوگا۔سوریہ کانت نے سینئر وکیل راجو راما چندرن کے ان دلائل پر کہ بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو کشمیری عوام کی خواہشات پر غور کئے بغیر یکطرفہ طورپر تبدیل نہیں کیا،ان سے سوال کیاکہ مجاز اتھارٹی کون ہے؟ یہ کیسے ہوگا؟ ایک ریفرنڈم کے ذریعے؟ منتخب نمائندوں کے ذریعے؟ کیسے ؟سابق بیوروکریٹ شاہ فیصل اورسماجی کارکن شہلا رشید کی طرف سے پیش ہونیوالے راما چندرن نے عدالت کو بتایا کہ جموںوکشمیر میں کوئی منتخب نمائندے موجود نہیں اور جب مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت تبدیل کی گئی تو وہاں گورنر راج نافذ تھا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوںکو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا اور آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…