بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کی بڑی پیشکش، گیند امریکی کورٹ میں ڈال دی  ایرانی حکومت کس کام کیلئے تیا رہو گئی؟ جانئے

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ قیدیوں کے مکمل تبادلے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے۔ہم اپنے ایک یرغمالی کی واپسی کے بعد قیدیوں کے جامع تبادلے کے لیے مکمل تیار ہیں۔امریکا اور ایران نے ہفتے کے روز اپنے ایک ایک قیدی کا تبادلہ کیا ہے۔ایران نے جاسوسی کے الزام میں

گرفتار کیے گئے ایک امریکی کو رہا کیا تھا جبکہ امریکا نے ایک ایرانی محقق قیدی کو رہا کیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے تعاون کا یہ منفرد واقعہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کابہت شفاف مذاکرات پر شکریہ ادا کیا تھا جن کے نتیجے میں ایران میں گرفتار امریکی اسکالر کی رہائی عمل میں آئی تھی۔دریں اثناء  ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ہمیشہ امریکا کے ساتھ تمام کے بدلے تمام کی رہائی کے لیے تیار رہا ہے۔ہم امریکا میں غیر منصفانہ طور پر زیرحراست تمام ایرانیوں کی رہائی کے لیے تعاون کو تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششوں کو امریکا کے ساتھ ایران کے دوسرے موضوعات پر مذاکرات سے نہ جوڑا جائے۔اگر امریکا ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کردیتا ہے کہ ایران کے ساتھ 2016ء  میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں لوٹ آتا تو پھر اس کے ساتھ مزید بات چیت ممکن ہے۔واضح رہے کہ امریکا ایران سے باپ بیٹے سیانک اور باقر نمازی ،بحریہ کے سابق اہلکار مائیکل آر وائٹ اور امریکی ایف بی آئی کے ایک سابق ایجنٹ رابرٹ لینوسن کی رہائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔رابرٹ ایران میں 2007ء  سے قید ہیں۔ادھر امریکا کی جیلوں میں دسیوں ایرانی شہر بند ہیں۔ان میں بہت سے افراد کو امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…