ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ایران کی بڑی پیشکش، گیند امریکی کورٹ میں ڈال دی  ایرانی حکومت کس کام کیلئے تیا رہو گئی؟ جانئے

datetime 10  دسمبر‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ قیدیوں کے مکمل تبادلے کے لیے تیار ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے۔ہم اپنے ایک یرغمالی کی واپسی کے بعد قیدیوں کے جامع تبادلے کے لیے مکمل تیار ہیں۔امریکا اور ایران نے ہفتے کے روز اپنے ایک ایک قیدی کا تبادلہ کیا ہے۔ایران نے جاسوسی کے الزام میں

گرفتار کیے گئے ایک امریکی کو رہا کیا تھا جبکہ امریکا نے ایک ایرانی محقق قیدی کو رہا کیا تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کے تعاون کا یہ منفرد واقعہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کابہت شفاف مذاکرات پر شکریہ ادا کیا تھا جن کے نتیجے میں ایران میں گرفتار امریکی اسکالر کی رہائی عمل میں آئی تھی۔دریں اثناء  ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ہمیشہ امریکا کے ساتھ تمام کے بدلے تمام کی رہائی کے لیے تیار رہا ہے۔ہم امریکا میں غیر منصفانہ طور پر زیرحراست تمام ایرانیوں کی رہائی کے لیے تعاون کو تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششوں کو امریکا کے ساتھ ایران کے دوسرے موضوعات پر مذاکرات سے نہ جوڑا جائے۔اگر امریکا ایران پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کردیتا ہے کہ ایران کے ساتھ 2016ء  میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں لوٹ آتا تو پھر اس کے ساتھ مزید بات چیت ممکن ہے۔واضح رہے کہ امریکا ایران سے باپ بیٹے سیانک اور باقر نمازی ،بحریہ کے سابق اہلکار مائیکل آر وائٹ اور امریکی ایف بی آئی کے ایک سابق ایجنٹ رابرٹ لینوسن کی رہائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔رابرٹ ایران میں 2007ء  سے قید ہیں۔ادھر امریکا کی جیلوں میں دسیوں ایرانی شہر بند ہیں۔ان میں بہت سے افراد کو امریکا کی ایران پر عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…