بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سفارتکار کی کشمیر میں اسرائیلی طرز پر ہندوؤں کی آباد کاری کی تجویز

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

واشنگٹن/نئی دہلی(این این آئی)امریکا میں بھارتی سفارت کار کو مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر ہندوؤں کی آبادکاری کی تجویز دینا مہنگا پڑگیا، بھارت سمیت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔

جس میں نیو یارک میں بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی ایک تقریب میں کہتے نظر آرہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت کو اسرائیل کی طرز کا منصوبہ بناتے ہوئے وہاں زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کو آباد کرنا ہوگا۔بھارتی قونصل جنرل کے مطابق جب مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی یہ کرسکتے ہیں تو ہم مقبوضہ کشمیر میں ایسا کیوں نہیں کرسکتے۔سندیپ چکرورتی کے اس بیان کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔بھارتی سفارت کا رکے بیان پرکشمیری پنڈتوں کی تنظیم کے سربراہ سنجے ٹکو کا کہنا تھا کہ اسرائیل طرز پرمقبوضہ کشمیر میں آباد کاری کی بات مضحکہ خیز ہے اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 370 کے نفاذ کے بعد یہ جو چاہیں یہاں کرسکتے ہیں لیکن ہم انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سفارت کا یہ بیان کشمیر کی مسلم آباد ی کے درمیان رہنے والے ہزاروں ہندوؤں کو خطرے میں ڈال دے گا۔دہلی میں مقیم ایک اور کشمیری پنڈت کا کہناتھا کہ یہ بیان ہمارے سیکولر آئین کے خلاف ہے اورہمارا کشمیر ایسے تجربات کے لیے نہیں ہے۔شرپسند عناصر ہمیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…