جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

نفرت انگیز تقریر کیس،لندن میں گرفتارالطاف حسین پرفرد جرم عائدبھی عائد کر دی گئی،بانی متحدہ کاخود پر عائد الزامات کاحیرت انگیز جواب

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)نفرت انگیز تقریر کے کیس میں بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کو لندن میں گرفتار  کرلیا گیا جس کے بعد ان پر  انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت فرد جرم بھی عائد کردی گئی۔۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقریر کے الزام میں ضمانت ختم ہونے پر بانی ایم کیو ایم تیسری بار لندن کے سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے تیسری بار بھی لندن پولیس کے سوالوں کے جوابات نہیں دئیے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

بانی ایم اکیو ایم کو حراست میں لیے جانے کے بعد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ پہنچایا گیا جہاں بانی متحدہ کو کورٹ کے سیل میں رکھا گیا۔بعد ازاں بانی متحدہ کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کے کورٹ نمبر ون میں پیش کیا گیا جہاں سماعت جاری ہے۔ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کی موجودہ چیف مجسٹریٹ سینئر ڈسٹرکٹ جج ایما آربوتھ ناٹ ہیں جو کیس کی سماعت کررہی ہیں۔کیتھرین سیلبائے کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندگی کررہی ہیں جبکہ الطاف حسین کی پیروی ان کے برطانوی وکلاء کررہے ہیں۔پاکستان کی جانب سے جج کے سامنے کیس کراؤن پراسیکیوشن سروس کے وکیل نے پیش کیا۔ بانی متحدہ نے جج کے سامنے اپنے نام، تاریخ پیدائش اور ایڈریس کی تصدیق کی، جج نے بانی متحدہ سے پوچھا کہ کیا انہیں معلوم ہے کہ ان پر دہشت گردی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے؟ جج نے الزامات کی تفصیل بانی متحدہ کو پڑھ کر سنائی۔ بانی متحدہ الطاف حسین نے جج کے سامنے خود پر عائد الزامات کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق لندن پولیس نیبانی ایم کیو ایم کو سوالوں کے جوابات دینے کا مشورہ دیا تھا تاہم جوابات نہ دینے اور شواہد کی روشنی میں پراسیکیوشن نے  ان پر فرد جرم عائد کی۔ذرائع کے مطابق بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے وکلاء کو جمعرات کو فرد جرم عائد کیے جانے کا خدشہ تھا جس کے باعث ان کی ضمانت کے کاغذ پہلے سے ہی تیار کرلیے گئے تھے۔ذرائع کیمطابق فرد جرم عائد ہونے کے بعد بانی ایم کیوایم کے خلاف ٹرائل تقریباً 2 ہفتے میں مکمل ہوجائے گا۔واضح رہے کہ بانی ایم کیو ایم پر اگست 2016 میں تقریر کے ذریعے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام ہے، لندن پولیس نے انہیں رواں برس 11 جون کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور وہ گزشتہ ماہ 12 ستمبر کو بھی ضمانت ختم ہونے پر سدک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…