جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

پاک بھارت تنازع !امریکی سینیٹرز نے ٹرمپ کو خط لکھ دیا ، کیا مطالبہ کردیا ؟ جانئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے نمایاں سینیٹرز اور اراکین کانگریس مسئلہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے مابین دیگر تنازعوں کے حل کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعمیری کردار ادا کرنے کامطالبہ کررہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو ارسال کردہ خط میں سینیٹر کرس وین ہولین

ٹوڈ ینگ، بین کارڈین اور لنڈسے گراہم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے بعد گرفتار افراد کی رہائی کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔خط میں انہوں نے لکھا کہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ آپ وزیراعظم نریندر مودی سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد گرفتار کی گئی کشمیری قیادت کی رہائی، ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی اور محاصرہ اور کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔صدر ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ ہماری تحریر کا مقصد کشمیر کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرنا ہے جو جمہوریت، انسانی حقوق اور خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔خط میں مزید کہا گیا کہ جہاں ہم آپ کے اس مقصد کی حمایت کرتے ہیں کہ فریقین کے ساتھ مل کر کشمیر کی حیثیت کا طویل مدتی حل نکالا جائے ، وہیں ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ وہاں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری کردار ادا کیا جائے۔خط میں دستخط کرنے والوں میں صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر برائے جنوبی ایشیائی امور سینیٹر لنڈسے گراہم وار کراچی میں پیدا ہونے والے سینیٹر وین ہولین بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو ان کی 22 جولائی کی بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش یاد دلائی۔سینیٹرز نے اپنے خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کیا۔خط میں ذکر کیا گیا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے قبل بھارت نے وادی میں ہزاروں اضافی فوجیوں کو تعینات کیا، رہائشیوں پر کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطے منقطع کردیے گئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…