بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر کی حیثیت  تبدیل کرکے بھارت نے ”شملہ معاہدہ“ توڑ دیا؟اس معاہدے کی بنیادی شرائط کیا ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)جرمن دارلحکومت برلن میں متعین پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے کہاہے کہ بھارت شملہ معاہدے کونقصان پہنچا رہا ہے، میں نے کئی مرتبہ شملہ معاہدہ پڑھا ہے اور اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔ بھارت نے ایسا کر دیا۔ شملہ معاہدے کی رو سے فریقین کو مل کر اس موضوع پر بات کرنا ہو گی لیکن بھارت اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہا۔

پاک بھارت کشیدگی کے موضوع پرجرمن ریڈیو سے برلن میں متعین پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے بات چیت کی۔انہوں نے کہاکہ وقت کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کا کا المیہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ اور اسی وجہ سے ہمارا یہ تاثر ہے۔ میں روزانہ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ دیکھتا لور پڑھتا ہوں اور پانچ اگست کے بعد کشمیر کے حوالے سے ہر رپورٹ نے مجھے رنجیدہ کیا ہے اور میرے خیال میں دیگر افراد کو بھی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں بھی کشمیر کی صورتحال بیان کی جا رہی ہے۔کشمیر کی صورتحال کے تین مختلف پہلو ہیں۔ پہلا انسانی حقوق کی پامالیاں ہیں، جن کا ذکر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ جنیوا میں اقوام متحدہ کے کمشنر بھی کیا ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آٹھ ملین لوگوں کو محصور کر دیا گیا ہے۔ وہاں پر کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کا مطلب ہے کہ اگر آپ اپنے گھر سے باہر نکلیں تو آپ کو گولی بھی ماری جا سکتی ہے۔ تمام تر مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔ کیا آپ کبھی برلن میں یا کسی اور جگہ اس طرح کی صورتحال  کا تصور کر سکتے ہیں۔اس مسئلے کا دوسرا پہلوسیاسی ہے اور وہ یہ کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ دو ممالک کے درمیان ایک متنازعہ خطہ۔ اس کے تیسرے پہلو کا تعلق سلامتی سے ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے گنجان آباد خطہ ہے۔ اور یہ دونوں ملک جوہری طاقتیں ہیں۔ اس طرح کی صورتحال دو جوری طاقتوں کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ کوئی غلط فہمی بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کچھ دن قبل میں بھارتی اخبارات میں چھپنے والے اداریے پڑھ رہا تھا اور ان میں صورتحال بھارتی حکومتی دعووں سے بالکل مختلف بیان کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بھارت ہے، جو شملہ معاہدے کونقصان پہنچا رہا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ یہ معاہدہ پڑھا ہے اور اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔ بھارت نے ایسا کر دیا۔ شملہ معاہدے کی رو سے فریقین کو مل کر اس موضوع پر بات کرنا ہو گی لیکن بھارت اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھا رہا۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کو چاہیے کہ سب سے پہلے تو وہ کشمیر میں اپنی تمام تر کارروائیاں روکے کیونکہ ان اقدامات نے خطے کو بہت ہی خطرناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ کرفیو اٹھانا چاہیے، مواصلاتی رابطے بحال کرنے چاہییں۔ مقامی کشمیریوں سے بات کرنی چاہیے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت یہ تمام تر اقدامات کرتا ہے تو ہم بھارت میں اپنا سفیر دوبارہ سے بھیجنے اور بات چیت دوبارہ سے شروع کرنے پر راضی ہیں۔ اس کے بعد فریقین کو ساتھ بیٹھ کر بامقصد سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہییں۔ یورپ اس کی ایک مثال ہے۔ تمام مسئلے بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے کوشش سنجیدہ اور با معنی ہونا لازمی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…