بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیرکی صورتحال پرامریکی سینیٹرز کا ٹرمپ کو خط،اہم مطالبہ کردیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی )مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرچار امریکی سینیٹرز نے صدرڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ دیاہے جس میں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے کشمیریوں کی مدد کرنے اور وہاں جنم لیتے انسانی المیے کو جلد ختم کرانے کا مطالبہ کیاگیاہے۔کشمیریوں کو اِن حالات سے نکالنے کے لیے امریکا کا بھارت پر دباو بہت اہم ہوگا۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیر میں پابندیاں، لاک ڈاون اور مواصلاتی نظام کی بندشیں ختم کرنے کے لیے بھارتی وزیراعظم مودی پر دباو ڈالا جائے، یقین ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی المیے کو ختم کرانے میں امریکا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چار امریکی سینیٹرز نے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے کشمیریوں کی مدد کرنے اور وہاں جنم لیتے انسانی المیے کو جلد ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ سینیٹرز کا کہنا تھا کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جاری اس مسئلے کو حل کرنے میں امریکا تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں سینیٹرز کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر بے حد تشویش ہے، کشمیریوں کو اِن حالات سے نکالنے کے لیے امریکا کا بھارت پر دباو بہت اہم ہوگا۔پانچ اگست کو بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا یکطرفہ اقدام کیا، جس کے بعد لاکھوں بھارتی اہلکار وادی میں تعینات کر کے، مواصلاتی رابطوں پر پابندی لگا کر کرفیو اور لاک ڈاون کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیریوں کی زندگی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کشمیر میں پابندیاں، لاک ڈاون اور مواصلاتی نظام کی بندشیں ختم کرنے کے لیے بھارتی وزیراعظم مودی پر دباو ڈالا جائے، یقین ہے کہ کشمیر میں جاری انسانی المیے کو ختم کرانے میں امریکا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…