جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیرکو بھارتی محاصرے میں ایک ماہ مکمل، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند، نظام زندگی مکمل طورپرمفلوج،شدید جھڑپیں، متعدد زخمی

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیرکوقابض بھارتی فورسزکے محاصرے میں ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے جہاں 5اگست کے بعد سے عائد مواصلاتی بلیک آؤٹ اور کرفیو کے باعث نظام زندگی مکمل طورپرمفلوج ہوکر رہ گیا ہے جبکہ بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انٹرنیٹ، موبائیل فون،ٹیلی فون اور ٹی وی چینل مسلسل بند ہونے کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے پانچ اضلاع کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔بھارت نے 5اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی

حیثیت منسوخ کرنے کے بعد مقبوضہ علاقے میں سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔لوگوں کو خوراک، ادویات اور دیگر اشیائے ضرویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں بدترین انسانی بحران دستک دے رہا ہے۔ سفری پابندیوں اور ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر کے تاجروں کو بھی شدید نقصانات کا سامنا ہے کیونکہ ان کی دکانیں اور تجارتی ادارے گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ نقل و حرکت کی آزادی اور موبائیل اور انٹرنیٹ سروسز کی عدم دستیابی کے باعث معمول کی کاروباری سرگرمیاں ممکن نہیں۔ صرف جموں میں صنعتوں کو تقریباپانچ ارب روپے کا نقصان ہوچکاہے۔ کرفیو اورپابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں نے پلوامہ، گاندربل، پونچھ اور راجوری کے اضلاع میں سڑکوں پر نکل کر بھارت مخالف مظاہرے کئے۔ بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں بیسیوں نوجوان زخمی ہو گئے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 11ہزار سے زائد سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گھروں یا جیلوں میں نظربند کردیا گیا ہے۔قابض فورسز نے شبانہ چھاپوں کے دوران بارہ سال کی عمرتک کے بچوں کی بڑی تعدادکو گرفتارکرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا ہے۔ یرغما ل بنائے گئے نوجوانوں کے اہلخانہ کواپنے بچوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ

وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔ دریں اثناء برطانیہ سے شائع ہونے والے روزنامے”دی انڈیپنڈنٹ“ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے شکارافراد کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں پر شدید تشدد کرتے ہیں۔اخبار نے کہاکہ نوجوانوں کو ننگا کرکے لاٹھیوں، بندوق کے بٹوں اور لاتوں سے ماراجاتا اوربجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں۔ انہیں کیچڑ ملا پانی پینے پر مجبورکیا جارہاہے۔ ادھردلی کی ایک عدالت نے نریندر مودی حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پرپابندی کی توثیق کردی ہے۔ دلی ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم ٹریبونل نے بھارتی حکومت کے فیصلے کوبرقرار رکھتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…