بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر کے بعد منی پور، ناگالینڈ، میزورام سمیت 8 بھارتی ریاستوں میں بھی حالات خراب، علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں

datetime 26  اگست‬‮  2019 |

اوٹاوا (نیوز ڈیسک) عالمی سطح پر بھارتی حکومت کے پروپیگنڈے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اقدامات کو سامنے لانے والی بھارتی خاتون صحافی اروندھتی رائے نے کینیڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، منی پور، ناگالینڈ، میزورام، تلنگانہ، گوا، پنجاب اور حیدر آباد میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف بھارتی فوج لڑ رہی ہے،

بھارتی صحافی نے کہا کہ آزادی سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں، تلنگانہ میں خصوصی قبائل اور کچھ ریاستوں اور علاقوں میں نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف بھارت فوج کو استعمال کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے انگریزوں سے آزادی ملتے ہی اپنے ہی لوگوں کے خلاف بزور طاقت بہت سے علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی تعینات کرکے عوام کے خلاف انہیں استعمال کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی صحافی نے پاکستان سے بھارت کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں کبھی بھی اپنی فوج کو اپنے لوگوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جبکہ بھارت اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوج کو استعمال کر رہا ہے، دوسری جانب بھارتی میڈیا اور پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کے اراکین نے اپنی ہی تنظیم کو حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیوں کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے۔گزشتہ ہفتے پی سی آئی نے اخبارکشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندیاں ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر مداخلت کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی سی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مواصلاتی رابطوں اور آزاد نقل و حرکت پر پابندی کو ملک کے میڈیا واچ ڈاگ کی جانب سے پریس کی آزادی کو محفوظ کرنے کی کوشش قرار دیاتاہم مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں پریس کے افعال بری طرح متاثر ہیں۔

دوسری جانب بھارتی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ یہ تصور کے کہ ایک کھلا معاشرہ، ایک ازاد میڈیا کسی بھی طرح قومی سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، آمریت کی توجیہہ سے کم نہیں۔ایڈیٹوریل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بھارت کو صحافت میں تشویشناک حد تک میعار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پی سی آئی کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کبھی اتنی اہم نہیں تھی جتنی آج ہے۔

ادھر آؤٹ لک میگزین کے سابق ایڈیٹر اور کونسل کے سابق رکن بھی ان اراکین میں شامل ہیں جنہوں نے اس اقدام پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پریس کونسل آزاد میڈیا کو قوم کی سالمیت کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا اور یہ سمجھتا ہے کہ قارئین اور ناظرین کو خصوصی حالات میں اندھیرے میں رکھا جاسکتا ہے تو یہ نہ صرف بھارتی جمہوریت کے لیے سیاہ دن ہے اور یہ کسی کے لیے باعثِ حیرت نہیں ہوگا کہ معاملات اس نہج پر آپہنچے ہیں۔

پی سی آئی چیئرمین سی کے پرساد کی جانب سے اس اقدام نے اختلاف رائے کو جنم دیا ہے جس میں کچھ اراکین کا کہنا تھا کہ سی کے پرساد نے بغیر کسی سے مشورہ کیے بغیر یہ درخواست دائر کی۔ان کا کہنا تھا کہ پریس کونسل کو ابھی تک کسی بھی میڈیا ہاؤس کی جانب سے کوئی غلط کام کرنے کے حوالے سے شکایت موجود نہیں ہوئی لہٰذا اس میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ایک کونسل رکن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست کا متن خاصہ خطرناک ہے حالانکہ اصول کے مطابق چیئرمین کوئی بھی فیصلہ لے اس حوالے سے اجلاس میں دیگر اراکین کو آگاہ کرنے کا پابند ہوتا ہے لیکن انہوں نے تو یہ کسی کو بتانا بھی گوارا نہیں کیا کہ پی سی آئی انورادھا بھاسن کیس میں مداخلت کررہی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…