بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

13ہزار398 جنگی طیاروں کے ساتھ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فضائی طاقت ،جانتے ہیں وہ ملک جس کے پاس ایک بھی جنگی طیارہ نہیں

datetime 24  اگست‬‮  2019 |

لندن(آن لائن)ملٹری ویب سائٹ گلوبل فائر پاور نے تازہ ترین جائزے میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ا مریکہ 13ہزار398 جنگی طیاروں کے ساتھ دنیاکی سب سے بڑی فضائی طاقت کا حامل ملک ہے جبکہ عرب ممالک میں مصر مختلف قسم کے 1092 جنگی طیاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔

ترکی کے پاس 1067 جبکہ اسرائیل کے پاس 595 جنگی طیارے ہیں اور یہ اٹھارہویں بین لاقوامی فضائی طاقت ہے۔عرب ممالک میں مصر کے بعد دوسری بڑی فضائی طاقت کا مالک سعودی عرب ہے جسے 12ویں بین الاقوامی طاقت قرار دیا گیا ہے، الجزائر عرب دنیا میں تیسرے اور بین الاقوامی سطح پر 21 ویں، متحدہ عرب امارات عرب دنیا میں چوتھی اور عالمی سطح پر 22 ویں فضائی طاقت ہے۔دنیا کی سب سے بڑی فضائی طاقت امریکہ ہے جس کی فضائیہ میں 13ہزار398 جنگی طیارے شامل ہیں، روس دوسرے نمبر پر ہے جسکے پاس4 ہزار78 جنگی طیارے ہیں، چین تیسرے نمبر پر ہے اور اس کے جنگی طیاروں کی تعداد 3187 ہے،بھارت 2082 جنگی طیاروں کا مالک ہے اور دنیا بھر میں اس کا نمبر چوتھا ہے، جنوبی کوریا پانچویں نمبر پر ہے اور اس کے پاس 1614 طیارے ہیں۔فرانس کے طیاروں کی تعداد 1248ہے اور وہ دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے۔برطانیہ کی ایئر فورس میں 811 جنگی طیارے ہیں اور وہ15ویں نمبر پر ہے۔ ملٹری ویب وسائٹ نے ایسے ممالک کی فہرست بھی دی ہے جو یا تو معمولی ترین فضائی طاقت کے مالک ہیں یا وہ فضائی طاقت سے یکسر محروم ہیں۔ لائیبریا ایسا ملک ہے جس کے پاس ایک بھی جنگی طیارہ نہیں۔ مڈغاسکر کے پاس صرف 2 جنگی طیارے ہیں جبکہ جمہوریہ وسطی افریقہ 3 جنگی طیاروں کا مالک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…